خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 289 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 289

289 قل يا اهل الكتاب تعالوا الى كلمة سواء بيننا وبينكم الا نعبد الا الله ولا نشرك به شيئا و لا يتخذ بعضنا بعضا اربابا من دون الله (آل عمران : 65) اتنے اختلافات کے ہوتے ہوئے بھی قرآن کریم یہود کو دعوت اتحاددیتا ہے۔کیا اس موقع پر جبکہ اسلام کی جڑوں پر تب رکھ دیا گیا ہے۔جب مسلمانوں کے مقامات مقدسہ حقیقی طور پر خطرے میں ہیں۔وقت نہیں آیا کہ آج پاکستانی افغانی ، ایرانی ، ملائی ، انڈونیشین ، افریقن ، بر براور ترکی یہ سب کے سب اکٹھے ہو جائیں اور عربوں کے ساتھ مل کر اس حملہ کا مقابلہ کریں جو مسلمانوں کی قوت کو توڑنے اور اسلام کو ذلیل کرنے کے لئے دشمن نے کیا ہے؟ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ قرآن کریم اور حدیثوں سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودی ایک دفعہ پھر فسلطین میں آباد ہوں گے لیکن یہ نہیں کہا گیا کہ وہ ہمیشہ کے لئے آباد ہوں گے۔فلسطین پر ہمیشہ کی حکومت تو عباداللہ الصالحون کے لئے مقرر کی گئی ہے۔پس اگر ہم تقویٰ سے کام لیں تو اللہ تعالیٰ کی پہلی پیشگوئی اس رنگ میں پوری ہوسکتی ہے کہ یہود نے آزاد حکومت کا وہاں اعلان کر دیا ہے لیکن اگر ہم نے تقویٰ سے کام نہ لیا تو پھر وہ پیشگوئی لمبے وقت تک پوری ہوتی چلی جائے گی اور اسلام کے لئے ایک نہایت خطر ناک دھکا ثابت ہوگی۔پس ہمیں چاہئے اپنے عمل سے، اپنی قربانیوں سے، اپنے اتحاد سے، اپنی دعاؤں سے، اپنی گریہ وزاری سے اس پیشگوئی کا عرصہ تنگ سے تنگ کر دیں اور فلسطین پر دوبارہ محمد رسول اللہ ﷺ کی حکومت کے زمانہ کو قریب سے قریب تر کر دیں اور میں سمجھتا ہوں اگر ہم ایسا کر دیں تو اسلام کے خلاف جو رو چل رہی ہے وہ الٹ پڑے گی۔عیسائیت کمزوری و انحطاط کی طرف مائل ہو جائے گی اور مسلمان پھر ایک دفعہ بلندی اور رفعت کی طرف قدم اٹھانے لگ جائیں گے۔شاید یہ قربانی مسلمانوں کے دل کو بھی صاف کر دے اور ان کے دل بھی دین کی طرف مائل ہو جائیں۔پھر دنیا کی محبت ان کے دلوں سے سرد ہو جائے۔پھر خدا اور اس کے رسول اور ان کے دین کی عزت اور احترام پر وہ آمادہ ہو جا ئیں اور ان کی بے دینی دین سے اور ان کی بے ایمانی ایمان سے اور ان کی سستی چستی سے اور ان کی بد عملی سعی پیہم سے بدل جائے۔الفضل 21 مئی 1948ء ص 4,3 ) حضرت مصلح موعودؓ کے اس انقلاب انگیز مضمون نے شام ، لبنان، اردن اور دوسرے عرب ممالک میں زبر دست تہلکہ مچا دیا۔اس مضمون کی نہایت وسیع پیمانے پر اشاعت کی گئی اور شام و لبنان کی تین سو