خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 286
286 اللہ ! تو خودان مقدس مقامات کی حفاظت فرما اور ان لوگوں کی اولادوں کو جو آنحضرت علی کے لئے جانیں فدا کر گئے اور ان کے ملک کو ان خطرناک نتائج جنگ سے جو دوسرے مقامات پر پیش آرہے ہیں بچالے اور اسلام کے نام لیواؤں کو خواہ وہ کیسی ہی گندی حالت میں ہیں اور خواہ ہم سے ان کے کتنے اختلافات ہیں ان کی حفاظت فرما اور اندرونی و بیرونی خطرات سے محفوظ رکھ جو کام آج ہم اپنے ہاتھوں سے نہیں کر سکتے وہ خدا تعالیٰ کا ہاتھ کر دے اور ہمارے دل کا دکھ ہمارے ہاتھوں کی قربانیوں کا قائم مقام ہو جائے“۔(الفضل 3 جولائی 1942ءص5,4) بعض متعصب ہندو ہمیشہ اعتراض کیا کرتے تھے کہ مسلمانوں کے دلوں میں ہندوستان کی نسبت مکہ اور مدینہ کی محبت بہت زیادہ ہے۔اس موقعہ پر حضور نے اس اعتراض کا یہ نہایت لطیف جواب دیا بیشک دین کی محبت ہمارے دلوں میں زیادہ ہے مگر اس کے یہ معنے نہیں کہ وطن کی محبت نہیں ہے۔اگر ہمارا ملک خطرہ میں ہو تو ہم اس کے لئے قربانی کرنے میں کسی ہندو سے پیچھے نہیں رہیں گے۔لیکن اگر دونوں خطرہ میں ہوں یعنی ملک اور مقامات مقدسہ تو مؤخر الذکر کی حفاظت چونکہ دین ہے اور زندہ خدا کے شعار کی حفاظت کا سوال ہے اس لئے ہم اسے مقدم کریں گے۔بیشک ہم عرب کے پتھروں کو ہندوستان کے پتھروں پر فضیلت نہ دیں لیکن ان پتھروں کو ضرور فضیلت دیں گے جن کو خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے فضیلت کا مقام بنایا ہے۔ایک مادہ پرست ہندو کیا جانتا ہے کہ وطن اور خدا تعالیٰ کے پیدا کردہ شعائر میں کیا فرق ہے۔وہ عرفان اور نیکی نہ ہونے کی وجہ سے اس فرق کو سمجھ نہیں سکتا۔حب الوطن من الایمان ہمارے ایمان کا جزو ہے مگر وہ گلیاں جن میں ہمارے پیار آقا محمد مصطفیٰ چلتے رہے ہیں وہ پھر جنہیں خدا تعالیٰ نے ہمارے لئے عبادت کا مقام بنایا ہمیں وطن سے زیادہ عزیز ہیں۔اس پر کوئی ہندو یا عیسائی حاسد جلتا ہے تو جل مرے ہمیں اس کی کوئی پرواہ نہیں۔الفضل 3 جولائی 1942 ء ص 5) حضرت خلیفہ لمسیح الثانی کی اس تحریک پر قادیان اور بیرونی احمدی جماعتوں میں مقامات مقدسہ کے لئے مسلسل نہایت پر درد دعاؤں کا سلسلہ جاری ہو گیا۔اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل وکرم سے اپنے محبوب خلیفہ اور اپنی پیاری جماعت کی تضرعات کو بپایہ قبولیت جگہ دی اور جلد ہی جنگ کا پانسہ پلٹ