خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 247 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 247

247 شاہ صاحب، حضرت صوفی غلام محمد صاحب سابق مربی ماریشس اور دوسرے اصحاب کے علاوہ خود حضور تعلیم دیتے تھے۔حضرت مولوی شیر علی صاحب اس مدرسہ کے نگران تھے۔اس مدرسہ نے خواتین کے علمی و تنظیمی خلاء کو پر کرنے میں بڑا کام کیا اور خواتین کے مرکزی اداروں اور درسگاہوں کے لئے معلمات اور کارکنات پیدا ہوئیں۔15 دسمبر 1926ء کو لجنہ اماءاللہ کی نگرانی میں ماہوار رسالہ ” مصباح “ جاری ہوا جس سے احمدی خواتین کی تربیت و تنظیم کو بہت تقویت پہنچی۔ابتداء میں رسالہ کا انتظام مرد کرتے تھے مگر مئی 1947ء میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کے ارشاد پر اس کا پورا اہتمام مرکزی لجنہ اماءاللہ کو سونپ دیا گیا جس سے رسالہ کے علمی و دینی معیار میں خاطر خواہ اضافہ ہوا اور اب یہ جماعت کی مستورات کے ترجمان کی حیثیت سے سلسلہ کی خدمت بجالا رہا ہے۔16 ستمبر 1927ء کو حضرت امتہ الحئی صاحبہ کی یاد میں "امتہ الحی لائبریری کا افتتاح ہوا اور اس کی نگرانی حضرت سیدہ ام طاہر احمد صاحبہ کو تفویض ہوئی۔جنہوں نے اپنی پوری زندگی لجنہ کے کام کے لئے وقف رکھی۔افتتاح پر حضرت خلیفہ المسیح الثانی حضرت اماں جان اور خاندان حضرت مسیح موعود کے دوسرے افراد نے کتابیں عنایت فرمائیں۔یہ لائبریری حضرت خلیفہ ثانی کی اجازت خاص سے گول کمرہ میں قائم ہوئی۔1947 ء کے بعد اس لائبریری کا احیاء جنوری 1960ء کور بوہ میں ہوا۔1930ء میں لجنہ کو مجلس شوری میں نمائندگی کا حق ملا۔جولائی 1931ء میں تحریک آزادی کشمیر کا آغاز ہوا تو لجنہ نے اسے کامیاب بنانے کے لئے چندہ دیا۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے یکم اپریل 1938ء کو حکم دیا کہ جہاں جہاں لجنہ ابھی قائم نہیں ہوئی وہاں کی عورتیں اپنے ہاں لجنہ اماءاللہ قائم کریں اور وہ بھی اپنے آپ کو تحریک جدید کی والنٹیر ز سمجھیں۔ماہ اپریل 1944ء میں حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کو الہام ہوا۔اگر تم پچاس فیصدی عورتوں کی اصلاح کر لو تو اسلام کو ترقی حاصل ہو جائے گی۔اس خدائی تحریک پر حضور لجنہ اماءاللہ کی تربیت و تنظیم کی طرف اور زیادہ گہری توجہ فرمانے لگے۔1950 ء میں حضرت خلیفہ المسیح الثانی کی تحر یک وقف زندگی پر مستورات نے لبیک کہا۔1951ء میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کا دفتر بنا۔1955ء میں ان کے چندوں سے ہالینڈ کی بیت الذکر تعمیر ہوئی۔