خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 233 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 233

233 کے لئے پیش کرو۔۔۔میرا خیال یہ ہے کہ اس ملک میں بھی اس طریق کو جاری کیا جا سکتا ہے۔چنانچہ میں چاہتا ہوں کہ اگر کچھ نوجوان ایسے ہوں جن کے دلوں میں یہ خواہش پائی جاتی ہو کہ وہ حضرت خواجہ معین الدین صاحب چشتی اور حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی کے نقش قدم پر چلیں تو جس طرح جماعت کے نوجوان اپنی زندگیاں۔۔۔( براہ راست میرے سامنے وقف کریں تا کہ میں ان سے ایسے طریق پر کام لوں کہ وہ کو تعلیم دینے کا کام کر سکیں۔وہ مجھ سے ہدایتیں لیتے جائیں اور اس ملک میں کام کرتے جائیں ہمارا ملک آبادی کے لحاظ سے ویران نہیں ہے لیکن روحانیت کے لحاظ سے بہت ویران ہو چکا ہے، اور آج بھی اس میں چشتیوں کی ضرورت ہے، سہر وردیوں کی ضرورت ہے اور نقشبندیوں کی ضرورت ہے۔اگر یہ لوگ آگے نہ آئے اور حضرت معین الدین صاحب چشتی ، حضرت شہاب الدین صاحب سہروردی اور حضرت فرید الدین صاحب شکر گنج " جیسے لوگ پیدا نہ ہوئے تو یہ ملک روحانیت کے لحاظ سے اور بھی ویران ہو جائے گا بلکہ یہ اس سے بھی زیادہ ویران ہو جائے۔پس میں چاہتا ہوں کہ جماعت کے نوجوان ہمت کریں اور اپنی زندگیاں اس مقصد کے لئے وقف کریں۔(الفضل 6 فروری 1958ء) حضرت مصلح موعودؓ نے جلسہ سالانہ 1957 ء پر جماعت کے سامنے وقف جدید کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرمایا: ” میری اس وقف سے غرض یہ ہے کہ پشاور سے لے کراچی تک ہمارے معلمین کا جال پھیلا دیا جائے اور تمام جگہوں پر تھوڑے تھوڑے فاصلہ پر۔یعنی دس دس پندرہ پندرہ میل پر ہمارا معلم موجود ہو اور اس نے مدرسہ جاری کیا ہوا ہو۔یا دکان کھولی ہوئی ہو اور وہ سارا سال اس علاقہ کے لوگوں میں رہ کر کام کرتا رہے اور گو یہ سکیم بہت وسیع ہے مگر میں نے خرچ کو مدنظر رکھتے ہوئے شروع میں صرف دس واقفین لینے کا فیصلہ کیا ہے ممکن ہے بعض واقفین افریقہ سے لئے جائیں یا اور غیر ملکوں سے بھی لئے جائیں مگر بہر حال ابتداء دس واقفین سے کی جائے گی اور پھر بڑھاتے بڑھاتے ان کی تعداد ہزاروں تک پہنچانے کی کوشش کی جائے گی“۔پس میں جماعت کے دوستوں سے کہتا ہوں کہ وہ جتنی قربانی کر سکیں اس سلسلہ میں کریں اور اپنے نام اس سکیم کے لئے پیش کریں۔اگر ہمیں ہزاروں معلم مل جائیں تو پشاور سے کراچی تک کے