خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 209
209 خریدا جائے تو میں ہمیشہ کہا کرتا ہوں کہ مجھے تو اس میں کئی باتیں نظر آ جاتی ہیں آپ کا علم چونکہ مجھ سے زیادہ وسیع ہے اس لئے ممکن ہے کہ آپ کو اس میں کوئی بات نظر نہ آتی ہو۔اصل بات یہ ہے کہ جب کسی کے دل کی کھڑکی بند ہو جائے تو اس میں کوئی نور کی شعاع داخل نہیں ہوسکتی پس اصل وجہ یہ نہیں ہوتی کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا بلکہ اصل وجہ یہ ہوتی ہے کہ ان کے اپنے دل کا سوراخ بند ہوتا ہے اور وہ سمجھتے ہیں کہ اخبار میں کچھ نہیں ہوتا۔۔اس سستی اور غفلت کا نتیجہ یہ ہے کہ ہماری اخباری زندگی اتنی مضبوط نہیں جتنی کہ ہونی چاہئے حالانکہ یہ زمانہ اشاعت کا زمانہ ہے اور اس زمانہ میں اشاعت کے مراکز کو زیادہ سے زیادہ مضبوط ہونا چاہئے۔میری ذاتی رائے یہ ہے کہ اگر اخبارات کے متعلق ہماری جماعت کی وہی حالت ہو جائے جو حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں تھی تو اخبار الفضل“ کے روزانہ ہونے کے باوجود کم از کم پانچ ہزار خریدار پیدا ہو سکتے ہیں۔بشرطیکہ ہمارے دوستوں کے اندر وہی روح پیدا ہو جائے کہ وہ کہیں ہم نے بہر حال اخبار خریدنا ہے چاہے ہمیں پڑھنا آتا ہو یا نہ آتا ہو۔اور اسی روح سے کام کرنے کے نتیجے میں باقی رسائل وغیرہ کے بھی ہزار دو ہزار خریدار ہو سکتے ہیں کیونکہ اس وقت پنجاب میں ہماری ایک لاکھ سے زیادہ معلوم جماعت ہے۔وہ لوگ جو کمزوری کی وجہ سے اپنے آپ کو ظاہر نہیں کر سکتے یا دل میں تو احمدی ہیں مگر ہمیں ان کی احمدیت کا علم نہیں وہ اس سے الگ ہیں اور اگر سارے ہندوستان کو دیکھا جائے تو اس میں جو ہماری معلوم جماعت ہے اس کو شامل کر کے یہ تعداد دولاکھ تک ہو جاتی ہے اور اگر بیرون ہند کی معلوم جماعت کو اس میں شامل کر لیا جائے تو یہ تعداد تین ساڑھے تین لاکھ تک پہنچ جاتی ہے۔گویا وہ احمدی جو ہمارے ریکارڈ کے لحاظ سے ہمیں معلوم ہیں اور جو اپنے آپ کو ایک نظام میں شامل کئے ہوئے ہیں وہ تین چار لاکھ سے کم نہیں۔اگر یہ لوگ اپنے اندر زندگی کی حقیقی روح پیدا کریں اور عورتوں اور بچوں اور ان لوگوں کو نکال بھی دیا جائے جو انتہائی غربت کی وجہ سے کسی اخبار کے خریدنے کی طاقت نہیں رکھتے تو کم از کم ہیں ہزار لوگ یقیناً ہماری جماعت میں ایسے موجود ہیں جوستا یا مہنگا کوئی نہ کوئی اخبار خرید سکتے ہیں مگر افسوس ہے کہ اس طرف توجہ نہیں کی جاتی اور ان کا نفس یہ عذر تراشنے لگ جاتا ہے کہ اور چندوں کی کثرت کی وجہ سے ہم اخبار نہیں خرید سکتے حالانکہ اس قسم کے چندے حضرت مسیح موعود کے زمانہ میں بھی تھے اور گو اس وقت عام چندہ کم تھا مگر ایسے مخلص بھی موجود