خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 198 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 198

198 بالآخر میں ایک ضروری امر کی طرف اپنے دوستوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس مینارہ میں ہماری یہ بھی غرض ہے کہ مینارہ کے اندریا جیسا کہ مناسب ہو ایک گول کمرہ یا کسی اور وضع کا کمرہ بنایا جائے جس میں کم از کم 100 آدمی بیٹھ سکے اور یہ کمرہ وعظ اور مذہبی تقریروں کے کام آئے گا۔کیونکہ ہمارا ارادہ کہ ایک یا دو دفعہ قادیان میں مذہبی تقریروں کا جلسہ ہوا کرے اور اس جلسہ پر ایک ایک شخص مسلمانوں ہندوؤں ، آریوں، عیسائیوں اور سکھوں میں سے اپنے مذہب کی خوبیاں بیان کرے۔مگر شرط یہ ہوگی کہ کسی مذہب پر کسی قسم کا حملہ نہ کرے۔فقط اپنے مذہب کی تائید میں جو چاہے تہذیب سے کہے۔حضرت مرزا شریف احمد صاحب یہ تجویز پڑھ ہی رہے تھے کہ حضرت مصلح موعوداً چانک کرسی سے اٹھے اور پاس ہی فرش پر جو تھوڑی سی جگہ تھی وہاں سجدہ میں پڑ گئے۔یہ دیکھتے ہی تمام حاضرین اپنی اپنی جگہ پر سجدہ میں گر گئے اور حضور کے اٹھنے پر جب اللہ اکبر کہا گیا تو اٹھے جس کے بعد حضرت مصلح موعود نے فرمایا:۔قرآن کریم میں خدا تعالیٰ فرماتا ہے اکثر لوگ خدا کے نشانوں سے اعراض کرتے ہوئے گزر جاتے ہیں۔آج سے 45 سال پہلے وہ شخص جس کی جوتیوں کا غلام ہونا بھی ہم اپنے لئے باعث فخر سمجھتے ہیں اسے اس وقت کی اپنی جماعت کی حالت دیکھتے ہوئے ایک بہت بڑا مقصد اور کام یہ نظر آیا کہ ایک ایسا کمرہ بنایا جائے جس میں سو آدمی بیٹھ سکے۔مگر آج ہم ایک ایسے کمرے میں بیٹھے ہیں جو اس غرض سے نہیں بنایا گیا تھا کہ مختلف مذاہب کے لوگ اس میں تقریریں کریں مگر اس میں پانچ سو کے قریب آدمی بیٹھے ہیں اور وہ بھی کرسیوں پر جو زیادہ جگہ گھیرتی ہیں۔گویا اس زمانہ میں جماعت کی طاقت اور وسعت کی یہ حالت تھی کہ سو آدمیوں کے بیٹھنے کا کمرہ بنایا جائے اور سو آدمیوں کی بٹھانے کے لئے جگہ بنانے کی غرض سے بھی حضرت مسیح موعود کو اعلان کرنا پڑا اور اسے ایک بڑا کام سمجھا گیا اور خیال کیا گیا کہ سو آدمیوں کے بیٹھنے کے لئے کمرہ بنانا بھی مشکل ہو گا۔مجھے منارة المسیح کی تعمیر کے وقت کی یہ بات یاد ہے کہ حضرت مسیح موعود شہ نشین پر بیٹھے تھے اور میر حامد شاہ صاحب کے والد میر حکیم حسام الدین صاحب سامنے بیٹھے تھے۔منارہ بنانے کی تجویز ہو رہی تھی۔8,7 ہزار جو جمع ہوا تھا۔وہ بنیادوں میں ہی صرف ہو گیا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلواۃ والسلام اس فکر میں تھے کہ اب کیا ہوگا، حکیم حسام الدین صاحب زور دے رہے تھے کہ حضور یہ بھی خرچ ہوگا اور وہ بھی ہوگا اور کئی ہزار روپیہ خرچ کا اندازہ پیش