خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 190 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 190

190 میں کہتا ہوں انہیں اس طرح آنے سے کیا فائدہ ہوا۔یہ فائدہ تو ہوا کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود کا حکم مانا اور اس حکم کی قدر کی۔مگر ایسے موقعہ پر انہیں کچھ سکھانے اور پڑھانے کا کہاں موقع مل سکتا ہے۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو جلسہ پر آتے اور پھر چلے جاتے ہیں ان کی بعض حرکات خلاف شرع ہوتی ہیں۔لیکن ایسے وقت میں نہ کچھ بتایا جا سکتا ہے اور نہ بتانے کا کوئی موقع ملتا ہے اور پھر وہ جو یہاں نہیں آتے ان کے لئے بار بار دعا بھی نہیں ہو سکتی اور کس طرح ہو۔میں تو دیکھتا ہوں۔ماں بھی اپنے اس بچہ کو جو ہر وقت اس سے دور رہے بھول جاتی ہے اور جو نزدیک رہے اسے یاد رکھتی ہے۔اسی طرح خدا تعالیٰ بھی ان لوگوں کو بھلا دیتا ہے جو اس کو یاد نہیں رکھتے۔تو و شخص جو بار بار مجھے ملتا ہے اور اپنے آپ کو شناخت کراتا ہے وہ اپنے لئے دعا کے لئے بھی یاد دلاتا ہے۔پھر قادیان میں نہ صرف قرآن شریف علمی طور پر حاصل ہوتا ہے بلکہ عملی طور پر بھی ملتا ہے۔یہاں خدا کے فضل سے پڑھانے والے ایسے موجود ہیں جو پڑھنے والے کے دل میں داخل کر دیں اور یہ بات کسی اور جگہ حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ تفقہ فی الدین اور چیز ہے اور علم اور چیز ہے۔جو قرآن شریف پڑھ سکتا ہے وہ عالم ہو سکتا ہے مگر فقیہ نہیں ہوسکتا۔ایسے انسان خدا کے فضل سے یہاں موجود ہیں ان سے آپ یہ بات حاصل کریں اور وہ اس طرح کہ بار بار یہاں آئیں۔انوار خلافت - انوار العلوم جلد 3 ص 172 ) 27 دسمبر 1920ء کو جلسہ سالانہ پر حضور نے قادیان آنے کے سات فوائد بیان کئے ہیں ان کا خلاصہ یہ ہے۔1 - مرکز سے تعلق رکھنے والاخطرات اور ہلاکت سے بچ جاتا ہے۔2 - مرکز کا نمونہ دیکھ کر نیک اور دینی باتوں میں حصہ لینے کی تحریک ہوتی ہے۔3۔تعلقات میں اضافہ ہوتا ہے۔4۔امام کی صحبت اور دعا سے برکات حاصل ہوتی ہیں۔5۔مقدس مقام کی برکات سے حصہ ملتا ہے۔6۔جماعتی کا موں کو دیکھ کر اہمیت ذہن نشین ہوتی ہے۔7۔مرکزی کام کر کے مرکزی برکات عطا ہوتی ہیں۔(انوار العلوم جلد 5 ص 450)