خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 185
185 ”خدا تعالیٰ کی مشیت پوری ہوئی اور میر صاحب وفات پاگئے۔ان کے انتقال سے جماعت کو اس لحاظ سے شدید صدمہ پہنچا ہے کہ وہ سلسلہ کے لئے ایک نہایت مفید وجود تھے۔مگر یا درکھو مومن بہادر ہوتا ہے اور بہادر انسان کا یہ کام نہیں ہوتا کہ جب کوئی ابتلاء آئے تو وہ رونے لگ جائے یا اس پر افسوس کرنے بیٹھ جائے۔تم کیوں اپنے آپ کو اس حالت میں تبدیل نہیں کر لیتے کہ جب کوئی شخص مشیت ایزدی کے ماتحت فوت ہو جائے تو تمہیں ذرا بھی یہ فکر محسوس نہ ہو کہ اب سلسلہ کا کام کس طرح چلے گا بلکہ تم میں سینکڑوں لوگ اس جیسا کام کرنے والے موجود ہوں۔۔۔ہماری جماعت اگر روحانی طور پر نہایت مالدار بن جائے تو اسے کسی شخص کی موت پر کوئی گھبراہٹ لاحق نہیں ہوسکتی۔تم اپنے آپ کو روحانی لحاظ سے مالدار بنانے کی کوشش کرو۔تم میں سینکڑوں فقیہہ ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں محدث ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں مفسر ہونے چاہئیں، تم میں سینکڑوں علم کلام کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم اخلاق کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں علم تصوف کے ماہر ہونے چاہئیں تم میں سینکڑوں منطق اور فلسفہ اور فقہ اور لغت کے ماہر ہونے چاہئیں۔تم میں سینکڑوں دنیا کے ہر علم کے ماہر ہونے چاہئیں تا کہ جب ان سینکڑوں میں سے کوئی شخص فوت ہو جائے تو تمہارے پاس ہر علم اور ہرفن کے 499 عالم موجود ہوں اور تمہاری توجہ اس طرف پھرنے ہی نہ پائے کہ اب کیا ہو گا جو چیز ہر جگہ اور ہر زمانہ میں مل سکتی ہو اس کے کسی حصہ کے ضائع ہونے پر انسان کو صدمہ نہیں ہوتا۔کیونکہ وہ جانتا ہے کہ ایسی سینکڑوں چیزیں میرے پاس موجود ہیں۔اسی طرح اگر ہم میں سے ہر شخص علوم و فنون کا ماہر ہو تو کسی کو خیال بھی نہیں آسکتا کہ فلاں عالم تو مر گیا۔اب کیا ہوگا۔یہ خیال اسی وجہ سے پیدا ہوتا ہے کہ ہم اپنے وجودوں کو نادر بننے دیتے ہیں اور ان جیسے سینکڑوں نہیں ہزاروں وجود اور پیدا کرنے کی کوشش نہیں کرتے۔اگر ان کے نادر ہونے کا احساس جاتا رہے جس کی سوائے اس کے اور کوئی صورت نہیں ہو سکتی کہ ان کے قائم مقام ہزاروں کی تعداد میں ہمارے اندر موجود ہوں تو کبھی بھی جماعت کو یہ خیال پیدا نہ ہو کہ فلاں شخص تو فوت ہو گیا۔اب کیا ہوگا ؟ دیکھو۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔فاستبقوا الخیرات۔تم نیکی کے میدان میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو۔اگر ہم قرآن کریم کے اس حکم کے مطابق یہ اشتیاق رکھتے کہ ہم دوسروں سے آگے بڑھ کر رہیں۔اگر ہم میں سے ہر شخص استباق کی روح کو اپنے اندر قائم رکھتا تو