خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 184
184 ماہرین علوم پیدا کرنے کے لئے تحریکات ایک تیزی سے بڑھتی ہوئی علمی جماعت کو ہر قسم کے کارکنان اور خدمت گاروں کی ضرورت ہوتی ہے۔اس لئے سیدنا حضرت مصلح موعودؓ نے نہ صرف عمومی وقف زندگی کی تحریکات فرمائیں بلکہ علماء اور ماہرین تیار کرنے کی ضرورت کو محسوس کیا اور اس کی خاطر ٹھوس قدم اٹھائے۔مختلف مذاہب کے ماہرین اس سلسلہ کو بڑھاتے ہوئے حضرت مصلح موعودؓ نے بعض جوانوں کو خاص خاص مذاہب کی ریسرچ کے لئے ارشاد فرمایا۔مثلاً ہندو مذہب کے لئے مہاشہ ملک فضل حسین صاحب۔سکھ مذہب کے لئے چوہدری عبدالسلام صاحب کا ٹھ گڑھی۔مولوی رحمت علی صاحب ( مبلغ انڈونیشیا) ، شیخ محمود احمد صاحب عرفانی اور عیسائی مذہب کی تحقیق کے لئے شیخ ( حکیم ) فضل الرحمن صاحب مقرر ہوئے۔ان حضرات میں سے مولوی رحمت علی صاحب اور شیخ فضل الرحمن صاحب اور شیخ محمود احمد صاحب عرفانی نے آگے چل کر بالترتیب انڈونیشیا، افریقہ اور مصر میں سلسلہ کی اشاعت کے لئے بڑی قابل قدر خدمات سرانجام دیں اور ملک فضل حسین صاحب نے اندرون ملک میں ہندو مذہب کے حوالہ سے شاندارلٹر پچر پیدا کیا۔چوہدری عبد السلام صاحب کا ٹھ گڑھی نے تحریک شدھی ملکانہ میں سرگرم حصہ لیا۔سینکڑوں مفسر اور محدث تاریخ احمدیت جلد 4 ص 223) لمصل 1944ء میں حضرت میر محمد الحق صاحب کی المناک وفات کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے سیدنا الموعودؓ کی توجہ اس طرف مبذول فرمائی کہ جماعت میں جلد سے جلد علماء اور علوم اسلامیہ کے ماہرین پیدا کرنے ضروری ہیں تا پہلے بزرگوں کے قائم مقام ہو سکیں اور جماعت کے لئے من حیث الجماعت اپنے علمی مقام سے گرنے کا امکان باقی نہ رہے۔چنانچہ حضور نے مجلس مشاورت کے دوران 9 را پریل 1944 ء کوفر ما یا فرمایا:۔