خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 108 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 108

108 داخل نہ ہوں ہماری ترقی خطرہ میں ہے۔ہمیں جلد سے جلد اس بات پر قادر ہونا چاہئے۔ایک لاکھ سالانہ کی رفتار سے ہم یہ امید کر سکتے ہیں کہ سلسلہ میں ایسے لوگ پیدا ہو جائیں گے کہ جو اس کام کو جاری رکھ سکیں گے۔موجودہ حالت میں تو ہم یہ بھی امید نہیں کر سکتے۔پس جس طرح احباب سب چندہ دیتے ہیں۔اس طرح ایک دو سال بھی اگر وہ سب اشاعت سلسلہ اور اخلاق کی درستی کی کوشش میں لگ جائیں جس کے ساتھ جماعت کے اندر ایک رو پیدا ہو جائے تو اس طرح ایسی تعداد پیدا ہوسکتی ہے کہ جو کام کو سنبھال سکیں“۔( خطبات محمود جلد 9 ص40) تبلیغی کتب حضرت مصلح موعودؓ نے کئی والیان ریاست کو تبلیغی خطوط لکھے اور ان کے لئے کتب تصنیف فرما ئیں اور تبلیغ کا ایک جدید طریق اختیار کیا۔ان میں سے دو کتب ایسی ہیں جو ہندوستان کے انگریز حکمرانوں کے نام لکھیں اور اس کی اشاعت میں آپ نے احمدیوں کی ایک بڑی تعداد کو شامل فرمایا۔تحفہ شہزادہ ویلز کی اشاعت کی تحریک: شہزادہ ویلز جو بعد میں ایڈورڈ ہشتم بنے دسمبر 1921ء میں ہندوستان کے دورہ پر آئے تو حضرت مصلح موعودؓ نے جماعت کے سامنے یہ تجویز پیش فرمائی:۔ہم ان کو جماعت کی طرف سے ایک مناسب تحفظ دیں۔جو ان کی شان کے شایان ہو اور ہماری شان کے بھی شایان ہو اور وہ تحفہ یہی ہو سکتا ہے کہ ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچادیں اور حق و صداقت کی ان کو دعوت دیں۔اس تحفہ کی اشاعت کے سلسلہ میں فرمایا:۔میں نے ہر شخص سے ایک آنہ کے پیسہ وصول کئے جانے کی تجویز پیش کی ہے اور میں چاہتا ہوں کہ کم سے کم پچیس ہزار آدمی کی طرف سے یہ تحفہ پیش ہو۔گو اس سے زیادہ لوگ اس میں شامل ہوں تو اور بھی اچھا ہے۔دوبارہ چندہ کسی سے نہ لیا جائے اور نہ ایک آنہ فی کس سے زیادہ وصول کیا جائے۔اگر کوئی صاحب اپنی خوشی سے زیادہ دینا بھی چاہیں۔تب بھی ایک آنہ فی کس سے زیادہ نہ لیا جائے۔(الفضل 9 جنوری 1922ء)