خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 107 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 107

107 از بر دست خراج تحسین پیش کیا گیا اور ہندو بھی عش عش کر اٹھے۔ان کے بیانات کا ایک حصہ تاریخ احمدیت کی چوتھی جلد میں محفوظ ہے۔جب آریوں کو پسپا ہونا پڑا تو شدھی کے بانی شردھانند نے بالآخر تحریک شدھی سے دستبرداری کا اعلان کر دیا۔مگر حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا کہ جب تک شدہ شدہ مسلمانوں میں ایک فرد بھی باقی ہے ہم یہ ہر گز نہیں بند کریں گے۔چنانچہ آپ نے علاقہ ارتداد میں مستقل مبلغین مقررفرما دیئے۔بالشویک علاقہ میں تبلیغ کی تحریکات حضرت مصلح موعودؓ نے 9 اگست 1923ء کو مندرجہ بالا عنوان کے تحت ایک مضمون تحریر فرمایا۔جس میں حضور نے روسی علاقوں میں تبلیغ کرنے والے بعض فدائیوں خصوصاً محمد امین خان صاحب کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔میں ان واقعات کو پیش کر کے اپنی جماعت کے مخلصوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ یہ تکالیف جن کو ہمارے اس بھائی نے برداشت کیا ہے۔ان کے مقابلہ میں وہ تکالیف کیا ہیں جو ملکانہ میں پیش آرہی ہیں۔پھر کتنے ہیں جنہوں نے ان ادنی تکالیف کے برداشت کرنے کی جرات کی ہے۔اے بھائیو! یہ وقت قربانی کا ہے۔کوئی قوم بغیر قربانی کے ترقی نہیں کر سکتی۔آپ لوگ سمجھ سکتے ہیں کہ ہم اپنی نئی برادری کو جو بخارا میں قائم ہوئی ہے۔یونہی نہیں چھوڑ سکتے۔پس آپ میں سے کوئی رشید روح ہے جو اس ریوڑ سے دور بھیڑوں کی حفاظت کے لئے اپنی جان قربان کرنے کے لئے تیار ہو اور اس وقت تک ان کی چوپانی کرے کہ اس ملک میں ان کے لئے آزادی کا راستہ اللہ تعالیٰ کھول دے۔(انوار العلوم جلد 7 ص 291) سالانہ ایک لاکھ بیعتوں کی تحریک حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے 13 فروری 1925ء کو تحریک فرمائی کہ ہر ایک احمدی دل میں عہد کرے کہ اشاعت سلسلہ میں ہمہ تن لگ جائے گا۔نیز فرمایا :۔” میرے نزدیک موجودہ ترقی کی رفتار بہت کم ہے۔جب تک ایک لاکھ سالانہ سلسلہ میں لوگ