خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 83
83 وقف زندگی کے متعلق تحریکات حضرت مسیح موعود کی قریباً 1901ء سے خواہش تھی کہ جماعت کے واعظین مقرر کر کے پیغام حق پہنچایا جائے اور آپ متفرق مجالس میں اس کا ذکر فرماتے رہے۔ستمبر 1907ء میں آپ کی توجہ خاص طور پر اس طرف مبذول ہوئی۔چنانچہ حضرت مفتی محمد صادق صاحب ایڈیٹر بدر لکھتے ہیں :۔چند روز سے اللہ تعالیٰ نے اپنے رسول کے دل میں یہ خاص جوش ڈالا ہے کہ واعظین سلسلہ حقہ کے جلد تقرر کے واسطے جماعت کے خواندہ اور لائق آدمیوں سے جو اس کام کے واسطے اپنے آپ کو وقف کر سکیں انتخاب کیا جائے اور ایسے آدمیوں کو خدمت تبلیغ سپرد کر کے مختلف مقامات پر بھیجا جائے۔دسمبر 1905ء کے جلسہ میں حضرت مولوی نورالدین صاحب نے بھی اس قسم کی تجویز پیش کی تھی کہ مدرسہ میں با قاعدہ طور پر واعظین طیار کرنے سے پہلے سر دست جماعت کے خواندہ اور لائق آدمیوں کو کچھ عرصہ قادیان میں رکھ کر اور دینی تعلیم دے کر یہ خدمت ان کے سپرد کی جائے۔ہر ایک امر کے واسطے ایک وقت ہوتا ہے اور اب جبکہ خدا تعالیٰ نے اپنے مامور کو اس کام کے جلد پورا کرنے کے واسطے جوش عطا فرمایا ہے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس کا وقت آگیا ہے۔اس کے بعد انہوں نے واعظین کی صفات کے متعلق حضرت مسیح موعود کا ارشاد درج کیا اور لکھا کہ حضور کے اس فرمان کو سن کر 13 احباب نے وقف کیا ہے۔حضور نے سب پر خوشنودی کا اظہار فرمایا ہے مگر سر دست کسی کو مقرر نہیں فرمایا۔واعظین کا با قاعدہ تقرر خلافت اولی میں شروع ہوا۔مگر جماعت کے بڑھتے اور پھیلتے ہوئے تقاضوں کے پیش نظر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے وقف زندگی کی متعد تحریکات فرمائیں اور جماعت میں وقف کے نظام کو نہایت مضبوط بنیادوں پر قائم کر دیا۔پیشے سیکھ کر خدمت دین کریں (بدر 3 /اکتوبر 1907ء) حضرت مصلح موعودؓ نے وقف زندگی کی پہلی تحریک خطبہ جمعہ 7 دسمبر 1917ء میں فرمائی۔