خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 70
70 لوگوں سے امید کی جائے گی کہ وہ اپنے گھروں میں بھی عربی زبان کو رائج کرنے کی کوشش کریں۔اس طرح قرآن کریم سے لوگوں کی دلچسپی بڑھ جائے گی اور اس کی آیات کی سمجھ بھی انہیں زیادہ آنے لگ جائے گی۔اب تو میں نے دیکھا ہے۔دعائیں کرتے ہوئے جب یہ کہا جاتا ہے۔ربنا اننا سمعنا تو ناواقفیت کی وجہ سے بعض لوگ بلند آواز سے آمین کہہ دیتے ہیں۔حالانکہ یہ آمین کہنے کا موقعہ نہیں ہوتا۔یہ عربی زبان سے ناواقفیت کی علامت ہے۔اگر عربی بول چال کا لوگوں میں رواج ہو جائے گا تو یہ معمولی باتیں لوگ خود بخود سمجھنے لگ جائیں گے اور انہیں نصیحت کرنے کی ضرورت نہیں رہے گی۔یہ رسالہ جب شائع ہو جائے تو خدام الاحمدیہ کے سپرد کر دیا جائے تا کہ اس کے تھوڑے تھوڑے حصوں کا وہ اپنے نظام کے ماتحت وقتا فوقتا نو جوانوں سے امتحان لیتے رہیں۔یہ فقرات بہت سادہ زبان میں ہونے چاہئیں۔مصری زبان میں انشاء الادب نام سے کئی رسالے اس قسم کے شائع ہو چکے ہیں مگر وہ زیادہ دقیق ہیں۔معلوم نہیں ہمارے سکولوں میں انہیں کیوں جاری نہیں کیا گیا۔الفضل یکم جنوری 1945 ء ص 4 کالم 4,3) ترجمہ قرآن کریم انگریزی کے پھیلاؤ کی تحریک انگریزی زبان میں قرآن کریم کا ترجمہ شائع ہوا تو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھانے کی خاطر جماعت کو تحریک کی کہ اس کی ایک ہزار کا پیاں دنیا کے مشہور علماء سیاستدان، لیڈروں اور مملکتوں کے سربراہوں کو دی جائیں اور دنیا کی مشہور لائبریریوں میں رکھی جائیں۔جماعت کے مخیر اور مخلص احباب ایک یا ایک سے زائد کاپیوں کی قیمت پیش کریں۔حضور فرماتے ہیں:۔جماعت کو ہمت کر دکھانی چاہئے اور ایک ہزار کتاب خرید کر سلسلہ کے سپرد کر دینی چاہئے تا کہ بڑے بڑے سیاستدانوں، لیڈروں ، مذہبی لوگوں اور مستشرقین میں ان کتابوں کو تقسیم کیا جا سکے۔اگر کتاب کی قیمت بیس روپے ہوئی تو کل بہیں ہزار کی رقم بنتی ہے۔اگر پچیس روپے ہوئی تو پچیس ہزار روپے کی رقم بنتی ہے۔اللہ تعالیٰ کے فضل سے ہمیں پچیس ہزار کی رقم جماعت کے لئے کوئی بڑا بوجھ نہیں