خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 59
59 محاسبہ کیا جائے۔دوسرے امر پر غور کیا جائے کہ غیر اس کے متعلق کیا کہتے ہیں۔الفضل یکم مارچ 1934 ء ص 8 کالم 1 ) پنجم رب العالمین کی صفت کے ماتحت تو کام ہوتے ہی رہتے ہیں۔رحمانیت کی صفت کے ماتحت بھی نیکیاں کریں اور اس نیت سے کریں کہ دین کو تقویت ہو۔( الفضل 29 مارچ 1934ء) یہ گویا پانچ ستون تھے جن پر تحر یک سالکین کی بنیاد رکھی گئی۔تحریک مصالحت اور اس کا اثر تبلیغی نظام چونکہ جماعت مومنین نے باہمی اتفاق و اتحاد اور جذبہ اخوت کے بغیر کامیاب نہیں ہو سکتا۔اس لئے حضور نے تبلیغ پر زور دینے کے ساتھ 8 جنوری 1932ء کے خطبہ جمعہ میں جماعت سے اس خواہش کا بھی اظہار فرمایا کہ میں چاہتا ہوں کہ ہم اس نئے سال کو اس غرض کے لئے وقف کر دیں کہ جماعت سے تمام لڑائیاں جھگڑے تفرقے اور عناد اللہ تعالیٰ کے فضل سے مٹادیں۔اس سلسلہ میں احباب جماعت کو یہ خاص ہدایت بھی فرمائی کہ جو شخص اپنے دوسرے بھائی سے کسی وجہ سے نہیں بولتا۔یا اس سے عداوت اور بغض رکھتا ہے وہ فورا اپنے بھائی کے پاس جائے اور اس سے خلوص دل کے ساتھ صلح کرلے اور آئندہ کے لئے کوشش کرے کہ آپس میں کوئی جھگڑا نہ ہو۔حضرت مصلح موعودؓ کے اس خطبہ جمعہ کا جماعت پر حیرت انگیز اثر ہوا اور جماعت کے دوستوں نے اپنی رنجشوں اور کدورتوں کو حضور کے اشارہ پھر چھوڑ دیا۔حتی کہ لوگوں نے مالی نقصان گوارا کر کے خطبہ سنتے یا پڑھتے ہی صلح کر لی۔مستثنیات تو ہر معاملہ میں چلتی ہیں۔تاہم شاذ و نادر ہی کوئی ایک شخص ہوگا جو اس سعادت سے بکلی محروم رہا ہو۔جماعت میں صلح و آشتی کا یہ خوش گن نظارہ دیکھ کر حضور نے 29 جنوری 1932ء کے خطبہ جمعہ میں نہایت خوشنودی کا اظہار فرمایا۔مگر ساتھ ہی نصیحت فرمائی: میں نے یہ نصیحت کی تھی کہ لوگ اپنے دلوں کو دوسروں کی نسبت صاف کر لیں اور خواہ وہ مظلوم ہی کیوں نہ ہوں صلح کریں۔میری یہ نصیحت نامکمل رہے گی اور فتنوں کا سد باب پوری طرح نہیں ہوگا جب تک میں اس کا دوسرا حصہ بھی بیان نہ کروں اور وہ یہ ہے کہ نہ صرف دوسروں کے متعلق ہر قسم کی