خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 581
581 حرکات ریکارڈ کر لیتی بعد ازاں ان جوڑوں کو یہ فلم دکھائی جاتی اور انہیں بلیک میل کر کے ان سے گھناؤنے کام لئے جاتے۔یہ سلسلہ چلتا رہا یہاں تک کہ ایسے 25 نوجوان جوڑوں کی سی ڈی پاکستان سے دوبئی گئی وہاں وہ دس لاکھ روپے میں بکی۔اس کی کا پیاں ہوئیں یہ کا پیاں برطانیہ، امریکہ، فرانس اور جرمنی گئیں اور وہاں سے واپس پاکستان آئیں۔شروع شروع میں یہ سی ڈی کراچی ، لاہور اور اسلام آباد میں چار پانچ ہزار میں فروخت ہوتی رہی۔اسی آمد و رفت کے دوران یہ سی ڈی کسی گینگ کے چڑھ گئی۔اس گینگ نے ان 25 خاندانوں کا سراغ لگایا اور سی ڈی کی کا پیاں ان جوڑوں کے گھروں تک پہنچا دیں۔بس اس حرکت کی دیر تھی تیل پر چنگاری آگری اور اس سکینڈل کی شکار تین لڑکیوں نے خود کشی کر لی۔ایک کو والد نے قتل کر دیا، دوشادی شدہ خواتین کو طلاق ہو گئی جبکہ لڑکے گھروں سے بھاگ گئے۔اس سی ڈی میں شامل چند نو جوانوں کا تعلق راولپنڈی کے انتہائی معزز گھرانوں سے تھا۔یہ معزز گھرانے اس گینگ کا چارہ بن گئے اور اب مسلسل بلیک میل ہورہے ہیں۔(روز نامہ جنگ 28 را پریل 2004 ء ادارتی صفحہ ) لغویات سے بچنے کی تحریک ان حالات میں ایک جماعت احمدیہ ہے جس کا سر براہ اور امام ان تمام بدنتائج پر نظر رکھتا اور جماعت کی راہنمائی کرتا ہے۔چنانچہ وہ نہایت حکمت کے ساتھ سائنسی ایجادات سے استفادہ کی طرف جماعت کے قدم مسلسل آگے بڑھا رہا ہے۔چنانچہ حضرت خلیفہ اسیح الخامس ایدہ اللہ نے متعدد مرتبہ جماعت کو انٹرنیٹ کے نقصان دہ پہلوؤں سے آگاہ کیا۔خطبہ جمعہ 20 راگست 2004ء میں فرمایا۔انٹرنیٹ کا غلط استعمال ہے یہ بھی ایک لحاظ سے آجکل کی بہت بڑی لغو چیز ہے۔اس نے بھی کئی گھروں کو اجاڑ دیا ہے۔ایک تو یہ رابطے کا بڑا سستا ذریعہ ہے پھر اس کے ذریعہ سے بعض لوگ پھرتے پھراتے رہتے ہیں اور پتہ نہیں کہاں تک پہنچ جاتے ہیں۔شروع میں شغل کے طور پر سب کام ہورہا ہوتا ہے پھر بعد میں یہی شغل عادت بن جاتا ہے اور گلے کا ہار بن جاتا ہے چھوڑ نا مشکل ہو جاتا ہے کیونکہ یہ بھی ایک قسم کا نشہ ہے اور نشہ بھی لغویات میں ہے۔کیونکہ جو اس پر بیٹھتے ہیں بعض دفعہ جب عادت پڑ جاتی ہے تو فضولیات کی تلاش میں گھنٹوں بلاوجہ، بے مقصد وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں۔تو یہ سب