خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 572 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 572

572 اعلیٰ تعلیم کے حصول کے متعلق تحریکات یہ زمانہ علم اور قلم کا زمانہ ہے اور تحریر و تقریر کے ذریعہ دنیا پر حق کا غلبہ مقدر ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے یہ بشارت پائی کہ میرے فرقہ کے لوگ علم اور معرفت میں کمال حاصل کریں گے۔چنانچہ قرآنی علوم کی خدمت کے لئے حضرت مسیح موعود نے علوم جدیدہ حاصل کرنے کی بڑے زور سے تحریک فرمائی۔بیسویں صدی کے آغاز میں ہندوستان میں شرح خواندگی بہت کم تھی اور تعلیم حاصل کرنے کے ذرائع بھی بہت محدود تھے اس لئے خلافت ثانیہ میں تعلیم کا کم از کم معیار پرائمری اور مڈل قرار دیا گیا۔حضرت خلیفہ اسیح الثالث نے ہر احمدی بچے کو میٹرک تک تعلیم حاصل کرنے کی تحریک فرمائی۔دنیا روزانہ علم کے نئے اوراق پلٹ رہی ہے اور مغربی اقوام علم کے زور پر دنیا پر اپنا سیاسی اور معاشی تفوق بڑھاتی چلی جارہی ہیں۔جس کے نتیجہ میں ان کا الحادی کلچر بھی بڑے زور کے ساتھ دنیا کے ہر خطے میں نشو و نما پا رہا ہے۔اعدادوشمار کے مطابق 61 مسلم ممالک میں صرف 500 یونیورسٹیاں ہیں جبکہ صرف امریکہ میں 5758 اور ٹوکیو شہر میں ایک ہزار یو نیورسٹیاں ہیں۔پوری عرب دنیا میں صرف 35 ہزار فل ٹائم ریسرچ سکالرز ہیں جبکہ صرف امریکہ میں ان کی تعداد 22 لاکھ ہے۔پوری مسلم دنیا اپنے جی ڈی پی کا صرف 02 فیصد ریسرچ پر خرچ کرتی ہے جبکہ عیسائی دنیا اپنی آمدنی کا 5 فیصد حصہ تحقیق اور علم پر لگاتی ہے۔دنیا کی پہلی 20 یو نیورسٹیوں میں 18 امریکہ میں ہیں۔کمپیوٹر کے پہلے 10 بڑے ادارے امریکہ میں ہیں۔دنیا میں سب سے زیادہ نوبیل انعام یافتہ سائنسدان امریکہ میں ہیں اور ان کی اکثریت (روز نامہ ایکسپریس یکم اگست 2006ء ) یہودی ہے۔اس لئے حضرت خلیفہ امسیح الثالث نے فرمایا تھا کہ مغرب اور امریکہ کو آپ اس وقت تک فتح نہیں کر سکتے جب تک کہ علم کے میدان میں ان کو شکست نہ دیں۔اس پس منظر میں جماعت احمد یہ اپنے محدود وسائل کے ساتھ اپنی نئی نسل کو علمی میدان میں بلندیوں پر پہنچانے کے لئے کوشاں ہے۔اس بارہ میں حضرت طلیقہ لمسیح الخامس ایدہ اللہ نے متعد تحریکات