خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 543
543 انتظام فرما دیا۔پھر یہ جو ان کا چھوٹا سا جلوس تھا اس پر بھی تین چار شہریوں نے ان کے بینر چھیننے کی کوشش کی کہ یہ کیوں کر رہے ہو۔اللہ تعالیٰ نے خود ہی ایسا سامان پیدا کر دیا کہ مخالفین کو ہمیں کچھ کہنے کی ضرورت نہیں پڑی۔ان کے اپنے لوگ ہی ان کو روکنے والے تھے۔جو مخالفین تھے ( لوگ اتنے زیادہ تو تھے نہیں) انہوں نے ایک ٹیپ ریکارڈر میں ایک آواز ریکارڈ کی ہوئی تھی۔کسی ٹنل میں سے کوئی جلوس گزرا اس کی بڑی گونج تھی لگتا یہ تھا کہ بہت بڑا جلوس ہے اور آوازیں نکال رہا ہے۔لیکن لگتا ہے ان کو بھی ملاؤں کی ٹریننگ تھی کہ ٹیپ ریکارڈر استعمال کرو۔جو وہاں MP آئے ہوئے تھے انہوں نے بڑی حیرت سے اس بات کا اظہار کیا کہ میں تو ایک عرصے سے جماعت کو جانتا ہوں میرے خیال میں بھی نہیں تھا کہ جماعت احمدیہ کی مسجد کی مخالفت ہو رہی ہو گی۔یہ تو بڑی امن پسند اور پیار کرنے والی جماعت اور پیار پھیلانے والی جماعت ہے۔اخباروں اور ٹی وی نے بھی بڑی اچھی کوریج دی۔جیسا کہ میں پہلے بھی جرمنی کے خطبہ میں بتا چکا ہوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے برلن میں مسجد کی تعمیر کی خواہش کا اظہار فرمایا تھا اور آپ کی بڑی شدید خواہش تھی اور اس وقت ایک ایکٹر رقبہ کا قریباً سودا بھی ہو گیا تھا بلکہ میرا خیال ہے لیا بھی گیا تھا اور آج کل کے حالات میں اتنا بڑا رقبہ ملنا ممکن نہیں ، کافی مشکل ہے کیونکہ زمینیں کافی مہنگی ہیں۔جرمنی میں عموماً جو پلاٹ مسجد کے لئے خریدے جارہے ہیں وہ بڑے چھوٹے ہوتے ہیں۔لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ فضل فرمایا کہ یہاں تقریباً ایک ایکڑ سے زائد کا رقبہ برلن کی مسجد کے لئے مل گیا ہے اور اللہ میاں نے بڑی سستی قیمت پر دلا دیا۔جبکہ باقی مساجد جو وہاں بن رہی ہیں اس سے چوتھے پانچویں حصے میں بن رہی ہیں۔پہلے میں یہ بتا دوں کہ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کا جو اس وقت کا منصوبہ تھا وہ نقشہ دیکھ کے آدمی حیران ہوتا تھا۔600 نمازیوں کے لئے ہال کی گنجائش تھی ، مشن ہاؤس، گیسٹ ہاؤس ، پھر اس میں 13 کمرے تھے جو سٹو ڈنٹس کے لئے ، طلباء کے لئے رکھے گئے تھے ، اب جو مسجد بن رہی ہے اس کے نقشے میں بھی تقریباً 500 نمازیوں کے لئے گنجائش ہو گی اسی طرح باقی چیزیں ہیں اور اگر فوری نہیں تو بعد میں کبھی جب بھی سہولت ہو، انشاء اللہ تعالیٰ اس کو وسعت دی جاسکتی ہے۔1923ء میں جب تحریک ہوئی تھی تو لجنہ اماءاللہ نے تعمیر کے لئے رقم جمع کی تھی۔حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا تھا کہ کیونکہ