خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 39 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 39

39 مجموعہ سمجھتے ہیں۔مگر ہمیں ایسی بے ادبی نہیں کرنی چاہئے۔خوا ہیں تو نبوت کا جزو ہیں۔ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ جو جو خواب ان کو آئے۔وہ مختصر طور پر ان کو لکھ لیا کریں اور پھر جو تعبیر اللہ تعالیٰ سمجھائے یا دکھائے اسے بھی نوٹ کر لیا کریں۔اس طرح پر ایک وقت ایسا آئے گا کہ اس فن میں ایک ضخیم کتاب تیار ہو سکے گی۔ہم سے پہلوں نے تو اپنا فرض ادا کر دیا۔لیکن اب کئی چیز میں ایسی نکل آئی ہیں جو پہلے موجود نہ تھیں۔اس لئے ان کی تعبیر ان کتابوں میں نظر نہیں آتی۔مثلاً خواب میں کوئی موٹر ہار دیکھے یا ہوائی جہاز یا ایسی اور ایجادیں۔ایسے خوابوں کی تعبیر میں تجارب کی بناء پر سمجھ میں آجاتی (احکم 14 دسمبر 1912 ء ص 6 کالم 1) حضرت مصلح موعودؓ نے 1917ء میں حقیقۃ الرویا کے نام سے جلسہ سالانہ پر بے نظیر خطاب فرمایا تھا۔اور حضور نے رویا و کشوف کے ضمن میں بہت سی تعبیریں بھی بیان فرمائی ہیں مگر اس میں ابھی بہت گنجائش ہے اور مختلف احباب اپنے اپنے ذوق کے مطابق کام کرتے رہتے ہیں۔یہ تحریک اب بھی اہل ذوق کو دعوت عام دے رہی ہے اگر تمام دنیا کے احمدی اس میں حصہ لیں تو یقینا ایک نادر خزانہ تیار ہو جائے گا۔علی گڑھ یونیورسٹی کے لئے تحریک ہیں۔سرسید کے بیٹے سید محمود نے 1873ء میں ایک ایسی اسلامی یو نیورسٹی کا تخیل پیش کیا جو کیمبرج اور آکسفورڈ کی طرح حکومت وقت کے اختیارات سے آزاد ہو۔اس کے بعد نواب محسن الملک مرحوم نے سرسید کی وفات کے بعد اس خیال کو آگے بڑھایا اور سرسید کی یادگار ٹھہرا کر ایجو کیشنل کانفرنس کے مقصد میں اس کو داخل کر لیا۔اور اس کی اعانت کے لئے ہندوستان بھر میں اداروں ، جماعتوں ، دوسرے رؤسا اور عوام سے چندہ کی تحریکیں کی گئیں۔محترم نواب فتح علی خاں صاحب نے لاہور سے حضرت خلیفہ المسیح الاول کی خدمت میں بھی چندہ کی تحریک کی۔اور یہ بھی عرض کیا کہ جماعت میں بھی تحریک فرما دیں کہ وہ کارخیر میں حصہ لے۔اس سلسلہ میں حضور نے جو خط نواب صاحب موصوف کو لکھا۔وہ درج ذیل ہے: قادیان 27 فروری 1911ء مکرم معظم جناب نواب صاحب