خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 459
459 میں نے یہ کی تھی کہ عیسائی دنیا عیسائی بچوں کو اپنے کرسمس کے تھنے بھیج رہی ہے۔اگر چہ ہم اس طرح تحفے بنا نا کر تو نہیں دیتے مگر اس سے بہت زیادہ بنی نوع انسان کی خدمت اس رنگ میں کر رہے ہیں کہ ہم گھر گھر جاتے ہیں اور اپنے ماحول میں غریبوں کی عید بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔مگر اس دفعہ میں نے یہ نئی ہدایت کی تھی کہ دور کے ملکوں میں پھیلے ہوئے غریب مسلمان بچوں کے لئے جن میں سے بھاری اکثریت غیر احمدی بچوں کی ہے لیکن مسلمان ہیں، رسول اللہ ﷺ کو مانتے ہیں اور آپ ہی کے نام پر وہ عید کی خوشیوں میں شامل ہورہے ہیں ان کے لئے بھی پارسل بنا بنا کر مختلف تھے بھیجیں، کچھ نقدی ساتھ ڈالیں تا کہ ان کو خوشی ہو کہ ہمارا بھی کوئی پرسان حال ہے اور رسول اللہ ﷺ کی خاطر ان کا پرسان حال جماعت احمد یہ ہوگی۔اس پہلو سے جو نصیحت کی تھی مجھے بے حد خوشی ہے کہ خدا تعالیٰ کے ضل سے اس پر جماعت نے بہت عمدگی سے عمل کیا ہے اور باقاعدہ مرکز سے مشورے کے بعد اس قسم کے تھے یا براہ راست بھجوا بھی دیئے یا ہم سے پوچھ کر اس کا متبادل طریق اختیار کیا۔بہر حال یہ تھے اب ہر جگہ تقسیم ہو چکے ہیں اور میں امید رکھتا ہوں کہ لاکھوں ایسے ہوں گے جنہوں نے اس سے فائدہ اٹھایا ہے۔اس کے بعد حضور نے نمونہ کے طور پر مختلف ممالک کی جماعتوں کی طرف سے دیئے جانے والے تحائف کی تفصیل بیان کی جس کا خلاصہ یہ ہے۔1۔انگلستان نے 93,300 پاؤنڈ کے تحائف تقسیم کئے۔2۔جرمنی نے 1250 پیکٹ البانیہ روانہ کئے۔2 ہزار گھروں کے بچوں میں عیدی کی رقم تقسیم کی۔کل خرچ 51 ہزار مارک ہے۔3 کینیڈا میں 14,500 کینیڈین ڈالرنقدی اور ایک کنٹینر بوسنیا کے لئے بھجوایا۔4۔امریکہ نے 5900 ڈالر نقدی اور 950 ڈالر کے تحائف تقسیم کئے۔5۔فرانس نے 40 افراد اور 10 بچوں کے لئے تحائف بھجوائے۔(خطبات طاہر۔عیدین ص 321) اس تحریک پر فوری طور پر لبیک کہتے ہوئے صرف 1999ء میں مجلس خدام الاحمدیہ پاکستان کی طرف سے 10 ہزار مستحقین میں دس لاکھ روپے کے اخراجات سے تحائف تقسیم کئے گئے۔الفضل 12 مارچ 1999 ء )