خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 443
443 تحریک وقف نو وقف زندگی کا سلسلہ تو الہبی جماعتوں کی اتباع میں حضرت مسیح موعود کے زمانہ سے جماعت احمدیہ میں جاری تھا۔لیکن حضرت خلیفتہ المسیح الرابع نے اس باب میں ایک ایسا اضافہ کیا جو تاریخ عالم میں ایک منفرد حیثیت رکھتا ہے۔اور وہ حضرت مریم کی والدہ کی سنت میں اولاد کو پیدائش سے پہلے خدا کے حضور وقف کرنا ہے۔چنانچہ اس وقت جب جماعت صد سالہ جو بلی 1989ء کے کنارے پر کھڑی تھی حضور نے اللہ تعالیٰ کی منشاء سے 3 اپریل 1987ء کو اعلان کیا۔مجھے خدا نے یہ توجہ دلائی کہ میں آپ کو بتا دوں کہ آئندہ دو سال کے اندر یہ عہد کر لیں جس کو بھی جوا ولا دنصیب ہوگی وہ خدا کے حضور پیش کر دئے“۔پس میں نے سوچا کہ ساری جماعت کو میں اس بات پر آمادہ کروں کہ اگلی صدی میں داخل ہونے سے پہلے جہاں ہم روحانی اولاد بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔دعوت الی اللہ کے ذریعے وہاں اپنے آئندہ ہونے والے بچوں کو خدا کی راہ میں ابھی سے وقف کر دیں اور یہ دعا مانگیں کہ اے خدا!! ہمیں ایک بیٹا دے لیکن اگر تیرے نزدیک بیٹی ہونا مقدر ہے تو ہماری بیٹی ہی تیرے حضور پیش ہے۔مافی بطنی جو کچھ بھی میرے بطن میں ہے۔یہ مائیں دعائیں کریں اور والد بھی ابراہیمی دعائیں کریں کہ اے خدا! ہمارے بچوں کو اپنے لئے چن لے ان کو اپنے لئے خاص کر لے۔تیرے ہو کر رہ جائیں اور آئندہ صدی میں ایک عظیم الشان واقفین بچوں کی فوج ساری دنیا سے اس طرح داخل ہورہی ہو کہ وہ دنیا سے آزاد ہورہی ہو اور محمد رسول اللہ ﷺ کے خدا کی غلام بن کر اس صدی میں داخل ہو رہی ہو چھوٹے چھوٹے بچے ہم خدا کے حضور تحفہ کے طور پر پیش کر رہے ہوں اور اس وقف کی شدید ضرورت ہے۔آئندہ سوسالوں میں جس کثرت سے اسلام نے ہر جگہ پھیلنا ہے وہاں لاکھوں تربیت یافتہ غلام چاہئیں جو محمد رسول اللہ ﷺ کے خدا کے غلام ہوں۔واقفین زندگی چاہئیں کثرت کے ساتھ اور ہر طبقہ زندگی سے واقفین زندگی چاہئیں ہر ملک سے واقفین زندگی چاہئیں۔(خطبہ جمعہ 3 را پریل 1987 ء ) حضور نے فرمایا:۔