خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 431
431 1996ء:Slovenia،El Salvador، بوسنیا، قرغیزستان۔1997ء: کروشیا۔1998ء:Nicaragua ، مایوٹی آئی لینڈ۔1999ء: چیک ریبلک، سلووک ریپبلک،Ecuodor Lesotho۔2000ء بسنٹرل افریقن ریپبلک ، ساؤ ٹومے، سیشلز ، سوازی لینڈ، بوٹسوانا، نمیبیا، ویسٹرن صحارا، جبوتی، اریٹریا، کوسوو، مونا کو، اندورا 2001ء: وینز ویلا سائپرس، مالٹا ، آذربائجان۔2002ء: مالدووا۔عالمی بیعت اس تحریک سے پہلے کل دنیا میں سالانہ چند ہزار بیعتیں ہوا کرتی تھیں۔وہ تعداد بڑھ کر لاکھوں میں تبدیل ہوگئی اور 1993 ء سے حضور نے جلسہ سالانہ برطانیہ کے موقع پر عالمی بیعت کا سلسلہ شروع فرمایا: عالمی بیعت کی بنیاد دراصل جلسہ سالانہ قادیان 1992 ء سے پڑی۔حضور نے 26 تا 28 دسمبر کے جلسہ سے سیٹلائٹ کے ذریعہ افتتاحی اور اختتامی خطابات ارشاد فرمائے۔اختتامی اجلاس میں 8 افراد کی بیعت بھی ہوئی۔یہ پہلی بیعت تھی جو عالمی رابطوں پر نشر کی گئی۔اسی طرح 30 مئی 1993ء کو حضور نے خدام الاحمدیہ جرمنی کے اجتماع کے موقع پر 13 ممالک کے 71 افراد کی بیعت لی جو سیٹلائٹ کے ذریعہ نشر کی گئی۔عالمی بیعت کا باقاعدہ نظام جلسہ سالانہ برطانیہ 1993ء سے شروع ہوا۔حضور نے اپریل میں عالمی بیعت کی تیاری کے لئے پہلا پیغام جاری فرمایا اور یکم اگست کو جلسہ سالانہ برطانیہ کے تیسرے دن 2 لاکھ افراد بیعت کر کے سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔حضور کی وفات تک عالمی بیعت کی 10 تقاریب میں قریباً ساڑھے 16 کروڑ نو احمدی سلسلہ احمدیہ میں داخل ہوئے۔یہ بیعت کا نظام بھی ان پیشگوئیوں کے مطابق ہے جن میں کہا گیا ہے کہ آسمان سے آواز آئے گی کہ امام مہدی کی بیعت کرو اور