خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 362
362 ایک وسیع گیسٹ ہاؤس بیرونی ممالک کے وفود کے قیام دوران جلسہ سالانہ کے لئے تعمیر کروا کر اس کی عمارت تحریک جدید انجمن احمدیہ کے سپرد کی۔یہ عمارت سرائے فضل عمر کے نام سے موسوم ہے۔بیرونی ممالک سے جو وفود جلسہ سالانہ میں شریک ہوتے ہیں ان کے اراکین جلسہ سالانہ کے دوران ہونے والی تقاریر کو جوار دو میں ہوتی ہیں، اردو زبان سے ناواقف ہونے کی وجہ سے سمجھ نہیں سکتے تھے۔سیدنا حضرت خلیفتہ امسح الثالث نے اس خواہش کا اظہار فرمایا کہ ان کے لئے انگریزی اور انڈونیشین زبانوں میں تقاریر کا ساتھ کے ساتھ ترجمہ سنانے کا انتظام کیا جائے۔فضل عمر فاؤنڈیشن نے حضور کے اس منشاء کو پورا کرنے کے لئے ضروری آلات، ماہر انجینئروں کے ذریعے تیار کروائے اور ان مشینوں کے چلانے والی ٹیموں کا بھی انہی ماہرین کے ذریعہ انتظام کرایا۔چنانچہ جلسہ سالانہ 1980ء سے مذکورہ ہر دو زبانوں میں جلسہ گاہ مردانہ اور زنانہ ہر دو میں ترجمہ سنانے کا انتظام کیا گیا۔قرآن کریم کے فرانسیسی ترجمہ کی اشاعت کے لئے امداد کی گئی۔جلسہ سالانہ کے مہمانوں کے لئے روٹی پکانے کی مشین کی تیاری کے لئے مالی امداد کی گئی۔ایک فوٹوسٹیسٹ مشین 75 ہزار روپے میں خرید کی گئی جو بعد میں بورڈ کے فیصلہ کے مطابق جامعہ احمدیہ کو بطور عطیہ دے دی گئی۔فضل عمر فاؤنڈیشن کے پہلے صدر حضرت چوہدری محمد ظفر اللہ خان صاحب اور سیکرٹری محترم شیخ مبارک احمد صاحب تھے۔اس کے ڈائریکٹر ز کا 3 سال کے لئے تقر ر ہوتا ہے۔اس وقت صدر کرم چوہدری حمید نصر اللہ خان صاحب لاہور اور سیکرٹری مکرم ناصر احمد صاحب شمس مربی سلسلہ ہیں۔