خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 342
342 4 اپریل 1969ء میں حضور نے موصیان کو قرآن کریم پڑھنے اور پڑھانے کا خاص فریضہ سپر د کر تے ہوئے فرمایا:۔”خدا چاہتا تھا کہ یہ تنظیم قرآن کریم کے پڑھنے اور پڑھانے سے اپنا کام شروع کرے“۔پھر ان کے معین فرائض کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔ایک تو موصیوں کے صدر اور نائب صدر کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے حلقہ کے موصیوں کا جائزہ لے کر ایک ماہ کے اندر اندر ہمیں اس بات کی اطلاع دیں کہ کس قدر موصی قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں اور جو موصی قرآن کریم ناظرہ جانتے ہیں ان میں سے کس قدر موصی قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں اور جو موصی قرآن کریم کا ترجمہ جانتے ہیں ان میں سے کس قدر قرآن کریم کی تفسیر سیکھنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں۔دوسری ذمہ داری یہ ہے کہ ہر موصی کو قرآن کریم آتا ہو اور تیسری ذمہ داری آج میں ہر اس موصی پر جو قرآن کریم جانتا ہے یہ ڈالنا چاہتا ہوں کہ وہ دو ایسے دوستوں کو قرآن کریم پڑھائے جو قرآن کریم پڑھے ہوئے نہیں اور یہ کام با قاعدہ ایک نظام کے ماتحت ہو اور اس کی اطلاع (خطبات ناصر جلد 2 ص 563) نظارت متعلقہ کو دی جائے۔حضور نے اس مقصد کے لئے 6 ماہ کا عرصہ مقرر فرمایا۔اسی خطبہ میں حضور نے مجلس انصار اللہ کو خصوصیت سے مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ خود قرآن سیکھیں اور جن کے راعی ہیں ان کو بھی سکھائیں اسی طرح حضور نے خدام اور لجنہ کو بھی تعلیم القرآن کی نگرانی کا ارشادفرمایا:۔حضور نے موصیان کے سپر تعلیم القرآن کے فریضہ کا ذکر کرتے ہوئے 20 جون 1969ء کے خطبہ میں فرمایا:۔میں نے اس کے لئے چھ ماہ کا عرصہ رکھا تھا لیکن بہت سے دوستوں نے میری توجہ اس طرف پھیری ہے کہ چھ مہینے کے اندر سارے قرآن کریم کا ترجمہ پڑھ لینا یا بہتوں کے لئے ناظرہ پڑھ لینا بھی ممکن نہیں۔پھر جیسا کہ میں نے بتایا ہے کہ قرآن کریم نہ ختم ہونے والا سمندر ہے۔انسان ساری عمر قرآن کریم سیکھتار ہے پھر بھی وہ یہ دعوی نہیں کر سکتا کہ اس نے قرآنی علوم سب کچھ حاصل کر لیا ہے۔بہر حال چونکہ بہت سوں کے لئے چھ ماہ کے عرصہ میں قرآن کریم ناظرہ سیکھنا یا اس کا ترجمہ سیکھنا