خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 339 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 339

339 تعلیم القرآن کے متعلق تحریکات حضرت خلیفتہ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کو قرآن کریم کا عشق اپنے بزرگ والد اور دادا سے ورثہ میں ملا تھا۔آپ نے بچپن میں قرآن مجید حفظ کیا اور خاندان مسیح موعود میں سب سے پہلے با قاعدہ واقف زندگی کا اعزاز حاصل کر کے ساری عمر قرآن کی خدمت میں کوشاں رہے۔آپ نے اپنے پیشروؤں سے جو کچھ سیکھا تھا اس کا خلاصہ آپ نے خلافت کی ذمہ داریاں سنبھالتے ہی یوں بیان فرمایا:۔خلیفہ وقت کا سب سے بڑا اور اہم کام یہی ہوتا ہے کہ وہ قرآن کریم کی تعلیم کو رائج کرنے والا اور نگرانی کرنے والا ہو“۔( الفضل 27 جولائی 1966ء۔خطبات ناصر جلد اول ص 298) ناظرہ قرآن سکھانے کا منصوبہ چنانچہ آپ نے تمام جماعت کو علوم قرآنی سے بہرہ ور کرنے کے لئے ایک عظیم منصوبہ کا اعلان کرتے ہوئے خطبہ جمعہ 4 فروری 1966ء میں فرمایا:۔ہماری یہ کوشش ہونی چاہئے کہ دو تین سال کے اندر ہمارا کوئی بچہ ایسا نہ رہے جسے قرآن کریم ناظرہ پڑھنا نہ آتا ہو۔اور واضح بات ہے کہ اتنے بڑے کام کے لئے چند مربی یا معلم یا مجالس خدام الاحمدیہ اور انصار اللہ کے بعض عہدیدار کافی نہیں۔یہ تھوڑے سے لوگ اس عظیم کام کو پوری طرح نہیں کر سکتے۔اس کے لئے ہمیں اساتذہ درکار ہیں۔ہمیں سینکڑوں نہیں بلکہ ہزاروں کی تعداد میں ایسے رضا کار چاہئیں جو اپنے اوقات میں سے ایک حصہ قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کے لئے یا جہاں ترجمہ سکھانے کی ضرورت ہو وہاں قرآن کریم کا ترجمہ سکھانے کے لئے دیں تا یہ اہم کام جلدی اور خوش اسلوبی سے کیا جا سکے۔حضور نے اس بارہ میں ابتدائی منصوبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔اس سلسلہ میں جو ابتدائی منصوبہ میں جماعت کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جماعت احمدیہ لا ہور کے تمام بچوں کو قرآن کریم ناظرہ پڑھانے کا کام مجلس خدام الاحمدیہ کرے اور کراچی کی جماعت