خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 326 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 326

326 دین اسلام کے لئے ہر اک قربانی کے لئے تیار ہے اور ہر ایک بوجھ اٹھانے کے لئے آمادہ۔ریز روفنڈ کی تحریک تاریخ احمدیت جلد 4 ص (515) حضرت خلیفہ ثانی نے 1927ء میں 25 لاکھ کا ریز روفنڈ قائم کرنے کی تحریک فرمائی اور اس کی ضرورت یہ بیان کی کہ ہماری جماعت کا بجٹ چونکہ محدود ہوتا ہے اور ہم اپنے سلسلہ کی ضروریات سے اس قدر روپیہ نہیں بچا سکتے جس سے عام اسلامی معاملات کی درستی کے لئے کافی رقم نکال سکیں۔جیسے کہ شدھی کا مقابلہ یا تمدنی اور اقتصادی تحریکات ہیں یا ادنی اقوام کی تبلیغ ہے۔اس وجہ سے ہم نے 25 لاکھ ریز روفنڈ کی تحریک کی ہے تا کہ اصل رقم محفوظ رہے اور اس کی آمدا ہم کاموں پر خرچ کی جائے۔حضور نے مجلس مشاورت 1927ء میں فرمایا :۔جو کام مسلمانوں کو فائدہ پہنچانے کے لئے ہم شروع کرنے والے ہیں۔اس کے لئے احباب کو 25 لاکھ کا ریز رو فنڈ جمع کرنے کی پوری پوری کوشش کرنی چاہئے۔میں اس کے متعلق بعض دوستوں کو خاص طور پر بھی توجہ دلاؤں گا۔اگر ہم مالی پہلو کی طرف سے مطمئن ہو جائیں۔تو پھر کسی دشمن کی ہمیں کوئی پرواہ نہیں ہوسکتی۔کامیابی ہمارے ہی لئے ہے۔ہمارے مد نظر یہ بات رہنی چاہئے کہ کچھ رہے یا نہ رہے مگر خدا کا نام ضرور رہے۔اس کے لئے 25 لاکھ جمع کرنا پہلا قدم ہے“۔رپورٹ مجلس شوری 1927 ء ص 197 ) پھر مجلس مشاورت 1930ء میں فرمایا:۔میرے نزدیک ریز روفنڈ ذریعہ حفاظت ہے اسے مٹا کر کس طرح سمجھ لیا جا سکتا ہے کہ حالت اچھی ہو جائے گی۔ریز روفنڈ تو مالی تنگی کے دور کرنے کا ذریعہ ہے۔جب پس انداز کرنے کے لئے اسے رکھا جائے گا تو اس کے لئے روپیہ بچانے کا بھی خیال رہے گا میں نے پہلے اس کے متعلق ہدایت دی ہے کہ انجمن پس انداز کرے مگر نہیں کیا گیا۔اس لئے اب ہدایت دیتا ہوں کہ ریز روفنڈ کا ماہواریل پاس کر کے یہ رقم پس انداز کی جائے اور یہ نہ کہا جائے کہ آخر سال میں اس کے لئے کوئی رقم نہیں رہی۔پس میں ہدایت دیتا ہوں کہ ماہوار بل جو تین سو سوا تین سو ہوگا۔نکال کر جمع کرتے جائیں“۔رپورٹ مجلس شوری 1930ء ص 116 )