خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 323
323 مالی تحریکات حضرت مصلح موعودؓ نے تعلیمی، تربیتی اور دعوت الی اللہ کے مقاصد کی خاطر جماعت میں سینکڑوں مالی تحریکات فرمائیں۔ان میں سے بعض تو فی ذاتہ وسیع اداروں کی شکل میں کام کر رہی ہیں۔مثلاً تحریک جدید، وقف جدید تعمیر مساجد کا نظام، تراجم قرآن کی اشاعت وغیرہ۔ان مرکزی اور مستقل تحریکات کے علاوہ بھی حضور نے وقتاً فوقتاً متعدد مالی تحریکات فرما ئیں اس مضمون میں صرف ان کا جائزہ لیا گیا ہے۔بیت المال کے لئے قرضہ کی تحریک حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے 5 جنوری 1922 ء کو جماعت کے سامنے قرضہ کی تحریک پیش کرتے ہوئے فرمایا:۔”ہر زمیندار جس کے پاس ایک مربع زمین کا ہے۔فی مربع ایک سور و پیہ بطور قرض فور ضروریات سلسلہ کے چلانے کے لئے ادا کر دے اور یہ رقم ایک سال سے دو سال تک کے عرصہ میں واپس ادا کی جائے گی۔انشاء اللہ۔اس طرح جن علاقوں میں مربعوں کے رنگ میں زمینوں کی تقسیم نہیں ہوتی لوگ فی تمیں گھماؤں زمین چاہی پر ایک سو اور فی پچاس ایکڑ زمین بارانی پر ایک سو روپیہ بطور قرض بیت المال میں داخل کر دیں۔جو لوگ ملازم یا تاجر ہیں۔ان کو چاہئے کہ جس کی آمد ایک سو روپیہ سے لے کر دوسو روپیہ ماہوار تک ہے وہ ایک سوروپیہ اور جس کی اس سے زیادہ ہے وہ دوسو روپیہ ماہوار سے او پر فی ایک سوروپیہ کی آمد پر ایک سوروپیہ کے حساب سے رقم بیت المال میں بطور قرض ادا کر دے۔یہ رقوم بھی اسی طرح ایک سال سے دو سال تک ادا ہوں گی۔ان لوگوں کے سوا جو اور لوگ اس کام میں حصہ لینا چاہیں۔وہ بھی حصہ لے سکتے ہیں“۔(الفضل 9 جنوری 1922ء) الفضل 4 جنوری 1923ء سے واضح ہوتا ہے کہ خزانہ صدرانجمن احمد یہ کئی ہزار کا مقروض تھا۔30 ہزار روپے کے صرف بل واجب الادا تھے۔حضور کی اس تحریک کے نتیجہ میں اتنی رقم جمع ہوگئی کہ خزانہ کا کافی بوجھ اتر گیا اور کام خوش اسلوبی سے چلنے لگ پڑا۔