خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 321
321 گندگی اور ملیریا سے بچاؤ: وقار عمل کے ذریعہ گندگی اور ملیریا سے محفوظ رہ سکتے ہیں۔حضرت مصلح موعودؓ بیان فرماتے ہیں:۔پانی کی گندگی کی وجہ سے ہر سال ملیر یا آتا ہے اور دس دس پندرہ پندرہ دن ایک شخص بیمار رہتا ہے۔ملیریا کی بڑی وجہ یہی ہوتی ہے کہ گڑھوں میں پانی جمع رہتا ہے اور اس کی سڑانڈ کی وجہ سے مچھر پیدا ہو جاتے ہیں جو انسانوں کو کاٹتے اور ملیریا میں مبتلا کر دیتے ہیں۔اس بخار کی وجہ سے لوگ پندرہ پندرہ دن تک بیمار رہتے ہیں اور اگر دس دن بھی ایک شخص کے بیمار رہنے کی اوسط فرض کر لی جائے اور ایک گھر کے پانچ افراد ہوں تو سال میں ان کے پچاس دن محض ملیریا کی وجہ سے ضائع چلے جاتے ہیں۔حالانکہ اگر وہ چھ دن بھی کوشش کرتے تو ملیریا کو جڑھ سے نابود کر دیتے مگر لوگ دوائیوں پر پیسے الگ خرچ کرتے ہیں۔تکلیف الگ اٹھاتے ہیں، طاقتیں الگ ضائع کرتے ہیں، عمریں الگ کم ہوتی ہیں۔موتیں الگ ہوتی ہیں اور پھر سال میں پچاس دن بھی ان کے ضائع چلے جاتے ہیں۔مگر تھوڑا سا وقت خرچ کر کے قبل از وقت ان باتوں کا علاج نہیں کرتے۔مشعل راه جلد اول ص94) دواجر و قار عمل احمدی نوجوانوں کا طرہ امتیاز ہے جس کا اعتراف کرنے پر غیر بھی مجبور ہیں۔ایک وقار عمل سے متاثر ہوکر خواجہ حسن نظامی لکھتے ہیں: آج دہلی کی قادیانی جماعت کے چالیس افراد خدمت خلق کے لئے آئے تھے۔مجھ سے پوچھا کہیں کا راستہ صاف کرنا ہو تو بتادیجئے۔میں نے اپنے مسافر خانہ کا راستہ خود جا کر بتایا۔ان لوگوں نے مزدوروں کی طرح پھاوڑے لے کر راستہ صاف کیا اور ان میں وکیل بھی تھے اور بڑے بڑے عہدے داروں کے سرکاری نوکر بھی تھے اور مرزا صاحب کے قرابتدار بھی تھے ان کے اس مظاہرے کا درگاہ کے زائرین اور حاضرین پر بہت اثر ہوا۔ایک صاحب نے کہا کہ پراپیگنڈا کے لئے یہ کام کر رہے ہیں۔میں نے کہا حضرت سلطان المشائخ نے فرمایا ہے جو شخص ظاہر داری کے لئے خدمت کرتا ہے اس کو اجر ملتا ہے اور جو محض خدا کی رضا کے لئے خدمت خلق کرتا ہے اس کو دو اجر ملتے ہیں۔( بحوالہ الفضل 31 دسمبر 1990ء)