خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 312 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 312

312 تحریک و قار مل حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے ایک طرف تو بے کاری کے خلاف زبر دست تحریک چلائی تو دوسری طرف جماعت کو جھوٹی عزت کے جذبات سے پاک کرنے اور صفائی کا شعور پیدا کرنے کے لئے ہاتھ سے کام کرنے کی ترغیب دلائی اور اس اہم کام کو تحریک جدید کے مطالبات میں شامل فرمایا۔’ جماعت کے دوست اپنے ہاتھ سے کام کی عادت ڈالیں۔میں نے دیکھا ہے اکثر لوگ اپنے ہاتھ سے کام کرنا ذلت سمجھتے ہیں حالانکہ یہ ذلت نہیں بلکہ عزت کی بات ہے۔یہ تحریک میں قادیان سے شروع کرنا چاہتا ہوں اور باہر گاؤں کی احمد یہ جماعتوں کو ( بھی ) ہدایت کرتا ہوں کہ وہ اپنی ( بیوت الذکر ) کی صفائی اور لپائی وغیرہ خود کیا کریں اور اس طرح ثابت کریں کہ اپنے ہاتھ سے کام کرنا وہ عار نہیں سمجھتے۔شغل کے طور پر لوہار، نجار اور معمار کے کام بھی مفید ہیں۔رسول کریم کو اپنے صلى الله ہاتھ سے کام کیا کرتے تھے۔یہ تربیت ثواب اور رعب کے لحاظ سے بھی بہت مفید چیز ہے۔جو لوگ یہ دیکھیں گے کہ ان کے بڑے بڑے بھی مٹی ڈھونا اور مشقت کے کام کرنا عار نہیں سمجھتے۔ان پر (الفضل 9 دسمبر 1934ء) خاص اثر ہوگا۔حضور نے اس سلسلہ میں اپنا ذاتی نمونہ پیش کر کے دلوں کو گرمایا۔فرماتے ہیں۔” جب پہلے دن میں نے کسی پکڑی اور مٹی کی ٹوکری اٹھائی تو کئی مخلصین ایسے تھے جو کانپ رہے تھے اور دوڑے دوڑے آئے اور کہتے حضور تکلیف نہ کریں ہم کام کرتے ہیں اور میرے ہاتھ سے کسی اور ٹوکری لینے کی کوشش کرتے۔لیکن جب چند دن میں نے ان کے ساتھ مل کر کام کیا تو پھر وہ عادی ہو 66 گئے اور وہ سمجھنے لگے کہ یہ ایک مشترکہ کام ہے جو ہم بھی کر رہے ہیں اور یہ بھی کر رہے ہیں۔“ تاریخ احمدیت جلد 8 صفحہ 50) چنانچہ قادیان اور جماعت کی دوسری آبادیوں میں صفائی کا تازہ ولولہ پیدا ہو گیا۔حضرت مصلح موعودؓ نے 1938ء میں مجلس خدام الاحمدیہ کی بنیاد رکھی۔ابتداء تنظیم کی ذمہ داریاں علمی میدان تک محدود تھیں لیکن اپریل 1938ء میں ہی حضرت مصلح موعودؓ نے اس پروگرام کو وسعت دی اور اس کے منشور میں پانچ نکات مزید شامل کئے جن میں پہلا نکتہ اپنے ہاتھ سے روزانہ اجتماعی