خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 294
294 سے ذہین طلباء بھجوائیں ہم ان کی تعلیم کا ذمہ لیتے ہیں۔حضرت خواجہ عبدالرحمان ڈار صاحب نے حضرت مصلح موعودؓ کی ہدایات کی روشنی میں مسلمان زمینداروں کی تنظیم و اصلاح کا بیڑا اٹھایا۔جس پر ریاستی حکام نے انہیں تشدد کا نشانہ بنایا۔خلیفہ عبدالرحیم صاحب نے ملازمتوں کے ضمن میں مسلمانوں پر کئے جانے والے مظالم سے معین اعداد و شمار کے ساتھ ریاستی وزراء کو آگاہ کیا۔جس کے نتیجہ میں ہندوستان کے مدبر اور کشمیر کے وزیر خارجہ سرایلین بینر جی نے مسلمانوں کے حق میں زبردست بیان دیا جس نے ریاست میں ہیجان بر پا کر دیا۔ان کے بیان کی تائید میں قادیان میں جماعت احمدیہ نے جلسہ کر کے قرارداد پاس کی۔28,27 را پریل کو لدھیانہ میں ہونے والے آل انڈیا مسلم کشمیری کا نفرنس کے سالانہ اجلاس کی روداد الفضل نے شائع کر کے اہل کشمیر کے مطالبات عوام و خواص تک پہنچائے۔حضور کا تیسرا دورہ کشمیر حضور کا تیسرا سفر کشمیر 5 جون تا 30 ستمبر 1929 ء۔حضور نے اہل کشمیر کو اخلاقی ، پہنی اور روحانی تغیر پیدا کرنے کی تلقین فرمائی۔حضور کے ارشادات سے متاثر ہو کر احمدی نوجوان خواجہ غلام نبی گلکار انور نے اصلاحی تقاریر کا سلسلہ شروع کیا۔1930 مئی 1930ء میں ریڈنگ روم پارٹی کا قیام ہوا جس کے صدر شیخ محمد عبد اللہ اور جنرل سیکرٹری خواجہ غلام نبی صاحب گل کار چنے گئے۔چونکہ ریاست میں سیاسی انجمن بنانے کی اجازت نہیں تھی اس لئے ایک اور خفیہ پارٹی بنائی گئی جس میں خواجہ غلام نبی صاحب بھی شامل تھے۔1931 ریاست کشمیر میں مذہبی مداخلت اور توہین قرآن کے ناگوار واقعات پیش آئے جس پر حضرت مصلح موعودؓ نے آزادی کشمیر سے متعلق 3 مضامین لکھے جو الفضل کے علاوہ اخبار انقلاب میں بھی شائع ہوئے۔ان میں حضور نے کشمیر کے نمائندوں پر مشتمل کشمیر کا نفرنس کے قیام کی تجویز پیش کی۔