خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 288 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 288

288 چنانچہ حضور نے خاص اس مقصد کے لئے ” الكفر ملة واحدة “ کے نام سے ایک حقیقت افروز مضمون سپر د قلم فرمایا جس میں دنیا بھر کے مسلمانوں کو اس فتنہ کی سرکوبی کے لئے فوراً ایک پلیٹ فارم پر جمع ہونے اور اس کے خلاف سر دھڑ کی بازی لگا دینے کی زبر دست تحریک فرمائی۔آپ نے تحریر فرمایا:۔وہ دن جس کی خبر قرآن کریم اور احادیث میں سینکڑوں سال پہلے سے دی گئی تھی۔وہ دن جس کی خبر تو رات اور انجیل میں بھی دی گئی تھی۔وہ دن جو مسلمانوں کے لئے نہایت ہی تکلیف دہ اور اندیش ناک بتایا جاتا تھا معلوم ہوتا ہے کہ آن پہنچا ہے۔فسلطین میں یہودیوں کو پھر بسایا جارہا ہے۔امریکہ اور روس جو ایک دوسرے کا گلا کاٹنے پر آمادہ ہو رہے ہیں۔اس مسئلہ میں ایک بستر کے دو ساتھی نظر آتے ہیں اور عجیب بات یہ ہے کہ کشمیر کے معاملہ میں بھی یہ دونوں متحد تھے۔دونوں ہی انڈین یونین کی تائید میں تھے اور اب دونوں ہی فلسطین کے مسئلہ میں یہودیوں کی تائید میں ہیں۔عرب اس حقیقت کو سمجھتا ہے۔عرب جانتا ہے کہ اب یہودی عرب میں سے عربوں کو نکالنے کی فکر میں ہیں اس لئے وہ اپنے جھگڑ۔اور اختلاف کو بھول کر متحدہ طور پر یہودیوں کے مقابلہ کے لئے کھڑا ہو گیا ہے مگر کیا عربوں میں یہ طاقت ہے؟ کیا یہ معاملہ صرف عرب سے تعلق رکھتا ہے۔ظاہر ہے کہ نہ عربوں میں اس مقابلہ کی طاقت ہے اور نہ یہ معاملہ صرف عربوں سے تعلق رکھتا ہے۔سوال فلسطین کا نہیں سوال مدینہ کا ہے۔سوال یروشلم کا نہیں سوال خود مکہ مکرمہ کا ہے۔سوال زید اور بکر کا نہیں سوال محمد رسول اللہ علیہ کی عزت کا ہے۔دشمن باوجود اپنی مخالفتوں کے اسلام کے مقابل پر اکٹھا ہو گیا ہے۔کیا مسلمان باوجود ہزاروں اتحاد کی وجوہات کے اس موقع پر اکٹھا نہیں ہوگا۔پس میں مسلمانوں کو توجہ دلاتا ہوں کہ اس نازک وقت کو سمجھیں اور یا درکھیں کہ آج رسول کریم ﷺ کا یہ فرمان کہ الـكـفــر مـلـة واحدة لفظ بلفظ پورا ہو رہا ہے۔یہودی اور عیسائی اور دہریہ مل کر اسلام کی شوکت کو مٹانے کے لئے کھڑے ہو گئے ہیں۔پہلے فردا فردایور بین اقوام مسلمانوں پر حملہ کرتی تھیں مگر اب مجموعی صورت میں ساری طاقتیں مل کر حملہ آور ہوئی ہیں۔آؤ ہم بھی سب مل کر ان کا مقابلہ کریں کیونکہ اس معاملہ میں ہم میں کوئی اختلاف نہیں۔دوسرے اختلافوں کو ان امور میں سامنے لانا جن میں کہ اختلاف نہیں۔نہایت ہی بیوقوفی اور جہالت کی بات ہے۔قرآن کریم تو یہود سے فرماتا ہے۔