خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 270
270 غربا کے مکان کی تعمیر کی تحریک حضور نے خطبہ جمعہ 11 ستمبر 1942ء میں فرمایا: بارشوں کی کثرت کی وجہ سے اس دفعہ قادیان میں بہت سے غربا کے مکان گر گئے ہیں۔ان مکانوں کی مرمت اور تعمیر میں خدمت خلق کرنے والوں کو حصہ لینا چاہئے۔میں اس موقعہ پر ان کو بھی توجہ دلاتا ہوں جن کو معماری کا فن آتا ہے کہ وہ اپنی خدمات اس غرض کے لئے پیش کریں۔آجکل عام طور پر عمارتوں کے کام بند ہیں اور وہ اگر چاہیں تو آسانی سے اپنے اوقات اس خدمت کے لئے وقف کر کے ثواب حاصل کر سکتے ہیں۔پس جن معماروں کو خدا تعالیٰ توفیق دے وہ ایک ایک دو دو تین تین چار چار دن ، جس قدر خوشی کے ساتھ دے سکتے ہوں، دیں تا کہ غربا کے مکانوں کی مرمت ہو جائے۔مزدور مہیا کر نا خدام الاحمدیہ کا کام ہو گا۔اس صورت میں بعض اور چیزوں کے لئے بہت تھوڑی سی رقم کی ضرورت ہوگی جس کے متعلق ہم کوشش کریں گے کہ چندہ جمع ہو جائے۔مگر جہاں تک خدمت کا کام ہے، خدام الاحمدیہ کو چاہئے کہ وہ اس کو خود مہیا کرے۔اس طرح خدا تعالیٰ کے فضل سے بہت ہی کم خرچ پر غربا کے مکانات کی مرمت ہو جائے گی۔(الفضل 17 ستمبر 1942ء) بھوکوں کو کھانا کھلانے کی تحریک 30 مئی 1944ء کو حضرت خلیفة المسیح الثاني لمصلح الموعود نے جماعت احمد یہ کونمو ما اور اہل قادیان کو خصوصا یا ہم تحریک فرمائی۔ہر شخص کو اپنے اپنے محلہ میں اپنے ہمسایوں کے متعلق اس امر کی نگرانی رکھنی چاہئے کہ کوئی شخص بھوکا تو نہیں اور اگر کسی ہمسایہ کے متعلق اسے معلوم ہو کہ وہ بھوکا ہے تو اس وقت تک اسے روٹی نہیں کھانی چاہئے جب تک وہ اس بھوکے کو کھانا نہ کھلائے۔(الفضل 11 جون 1945ء ص 3 کالم 2) احمدی مہاجرین کے لئے کمبلوں لحافوں اور تو شکوں کی خاص تحریک قیام پاکستان کے بعد مشرقی پنجاب سے آنے والے ایک لاکھ احمدیوں میں سے غالب اکثریت