خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 269 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 269

269 ڈپو کے سامنے کھڑے رہنا پڑتا تھا۔مگر قادیان میں خدا تعالیٰ کے فضل سے ایسا کوئی دن نہیں آیا جب کسی شخص کو آٹے کے لئے اس قدر تکلیف ہوئی ہو۔سوائے اس کے کہ کسی نے بہت ہی نادانی کر کے اپنے حق کو زائل کر دیا ہو کیونکہ یہاں یا تو لوگوں کو غلہ کے لئے قرض روپے دے دیئے گئے تھے یا غربا میں غلہ مفت تقسیم کر دیا گیا تھا یا پھر باہر کی جماعتوں نے قادیان والوں کے لئے غلہ مہیا کر دیا تھا جو قادیان والوں کو باہر کے ریٹوں سے بہت ستا دیا جاتا رہا۔جب باہر سوا چھ اور سات روپے گندم کا بھاؤ تھا ہم قادیان میں سوا پانچ روپے پر دیتے رہے اور جب باہر آٹھ اور نو روپیہ ریٹ تھا ہم سات روپیہ پر دیتے رہے اور جب باہر گندم سولہ روپے پر بک رہی تھی ہم نے جو انتظام کیا اس کے مطابق قادیان والوں کو آٹھ روپے پر گندم ملتی رہی۔گویا باہر کے بھاؤ میں اور اس بھاؤ میں جس پر ہم نے قادیان میں گندم دی دو گنا فرق تھا۔اس وقت بھی ہمارے پاس کچھ گندم باقی تھی مگر باوجود اس کے کہ اس وقت امرتسر میں ساڑھے نو اور دس روپیہ قیمت ہے میں نے دفتر والوں سے کہا اعلان کر دو کہ جن لوگوں نے روپیہ جمع کرا دیا ہوا ہے وہ آٹھ روپیہ کے حساب سے گندم لے لیں اور وہ نہ لیں تو دوسروں کو اسی قیمت پر گندم دے دو۔در حقیقت یہ قیمت بھی اس لئے مقرر کرنی پڑی کہ جب گندم بہت گراں ہو گئی تو اس وقت بعض جگہ سے ساڑھے نو اور پونے دس دس روپے پر گندم خریدی گئی مگر اس کے مقابلہ میں بعض احمد یوں نے ہمیں ستی گندم دے دی۔اس لحاظ سے ہمیں اوسطاً آٹھ روپے قیمت مقرر کرنی پڑی۔ورنہ جو گندم ہم نے آٹھ روپے پر فروخت کی ہے اس کا کچھ حصہ ایسا ہے جو ساڑھے نو اور دس پر خریدا گیا ہے۔مگر چونکہ اس کے مقابلہ میں بعض احمدیوں سے ستی گندم مل گئی اس لئے تمام اخراجات ملا کر ایک اوسط قیمت مقرر کر دی گئی اور اس طرح قادیان والوں کو باہر کے مقابلہ میں پھر ستی گندم مل الفضل 20 اپریل 1943ء ص 3,2) قادیان میں کئی سال حضور کی اس تحریک پر گندم جمع ہوتی رہی اور تمام غربا کو سال کے آخری 5 ماہ کی خوراک مہیا کی جاتی رہی۔حضور خود بھی اس میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتے رہے۔چنانچہ آخری سال حضور کی طرف سے دو سو من گندم اس مد میں دی گئی۔جبکہ دوسرے احباب نے 1300 من گندم پیش کی اور پھر یہ گندم انتظام کے ساتھ غربا میں تقسیم کر دی گئی۔گئی۔