خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 266
266 ایک مطلب تو یہ ہے کہ عربی زبان میں صدقہ کا جو مفہوم ہے وہ بھی پورا کرنے کا دوستوں کو موقعہ مل جائے اور یہ مفہوم یہ نہیں کہ رد بلا کے لئے خرچ کیا جائے بلکہ یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کی خوشنودی کے لئے خرچ کیا جائے۔پس میرا ایک مطلب تو یہ ہے کہ جن دوستوں کو پہلے ایسا خرچ کرنے کا موقعہ نہیں ملا انہیں اس کا موقع مل جائے اور نیکی کا یہ خانہ خالی نہ رہے۔دوسری غرض میری یہ ہے کہ ہماری جماعت میں یہاں بھی اور باہر بھی بعض سادات قابل امداد ہیں اور سادات کو معروف صدقہ دینا منع ہے۔پس اگر یہ انہی معنوں میں صدقہ کی نیت سے دیا جائے جو ہمارے ملک میں اس کا مفہوم ہے تو اس سے ہم سادات کی مدد نہیں کر سکتے ہاں ہدیہ اور تحفہ سے ان کی مدد بھی کر سکتے ہیں۔تحفہ انسان ماں باپ بھائی بہن بیوی بچوں دوستوں رشتہ داروں غرضیکہ سب کو دے سکتا ہے۔پس میری یہ دو اغراض ہیں جن کی وجہ سے میں نے کہا ہے کہ جو دوست میری اس تحریک میں حصہ لیں وہ صدقہ کی نیت نہ کریں۔( الفضل 5 جون 1942ء) اس اہم تحریک پر قادیان میں سب سے پہلے ملک سیف الرحمن صاحب ، مولوی عبدالکریم صاحب ابن حضرت مولوی محمد اسمعیل صاحب ) اور میاں مجید احمد صاحب ڈرائیور نے وعدے بھجوائے۔جس پر حضور نے اظہار خوشنودی کرتے ہوئے تحریر فرمایا:۔" آج ( 22 مئی) میں نے خطبہ جمعہ میں اس امر کی تحریک کی ہے کہ قادیان کے غربا کے لئے بھی غلہ کا انتظام کیا جائے تا کہ جن دنوں میں غلہ کم ہوا نہیں تکلیف نہ ہو۔پانچ سو من غلہ کے لئے میں نے جماعت سے مطالبہ کیا ہے۔قادیان سے باہر میری کچھ زمین ہے وہ بٹائی پر دی ہوئی ہے کچھ گرو ہے جو پھر واپس مقاطعہ پر لی ہوئی ہے۔چونکہ اس دفعہ فصل ماری گئی ہے اس کا مقاطعہ اور گورنمنٹ کا معاملہ اور اوپر کے اخراجات ادا کر کے کوئی پچاس من غلہ بچتا ہے۔وہ سب میں نے اس تحریک میں دے دیا ہے۔اس کے علاوہ اس وقت تک مندرجہ ذیل وعدے آئے ہیں۔مولوی سیف الرحمن صاحب 16 سیر غلہ۔مولوی عبد الکریم صاحب خلف مولوی محمد اسمعیل صاحب مرحوم ایک من۔میاں مجید احمد ڈرائیور ایک مسن۔خدا کی قدرت ہے کہ سب سے پہلے لبیک کہنے کی تو فیق ان کو ملی ہے جو خود غریب ہیں۔شاید تبھی رسول کریم فدا نفسی و روحی ) نے فرمایا ہے کہ خدا تعالیٰ مجھے غربا میں شامل کرے۔اس تحریک