خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 265 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 265

265 احمدی بھائیوں کے لئے غلہ کا انتظام کریں۔نیز خاص طور پر یہ تحریک فرمائی کہ قادیان کے غربا کے لئے زکوۃ کے رنگ میں اپنے غلہ میں سے چالیسواں حصہ بطور چندہ ادا کریں اور جو لوگ غلہ نہ دے سکیں وہ رقم بھجوا دیں کہ ہماری طرف سے اتنا غلہ غربا کو دے دیا جائے۔مقصود یہ تھا کہ غربا کو کم از کم اتنی مقدار میں تو گندم مہیا کر دی جائے کہ وہ سال کے آخری پانچ مہینوں میں جو گندم کی کمی کے مہینے ہوتے ہیں بآسانی گزارہ کر سکیں اور تنگی اور مصیبت کے وقت انہیں کوئی تکلیف نہ ہو۔اس غرض کے لئے حضور نے پانچ سومن غلے کا مطالبہ جماعت سے فرمایا اور اس میں سے بھی پچاس من خود دینے کا وعدہ کیا۔چنانچہ فرمایا: مومنوں کے متعلق قرآن کریم میں یہ بات بیان کی گئی ہے کہ وہ بھوک اور تنگی کے وقت غربا کو اپنے نفس پر ترجیح دیتے ہیں اور در حقیقت ایمان کے لحاظ سے یہی مقام ہے جس کے حاصل کرنے کی ہر مومن کو کوشش کرنی چاہئے۔مگر موجودہ زمانہ میں ہمیں وہ نمونہ دکھانے کا موقعہ نہیں ملتا جو صحابہ نے مدینہ میں دکھایا۔اس لئے ہمیں کم سے کم اس موقعہ پر غربا کی مدد کر کے اپنے اس فرض کو ادا کرنا چاہئے جو اسلام کی طرف سے ہم پر عائد کیا گیا ہے اور اگر ہم کوشش کریں تو اس مطالبہ کو پورا کرنا کوئی بڑی بات نہیں۔پانچ سومن غلے کا اندازہ بھی درحقیقت کم ہے اور یہ بھی سارے سال کا اندازہ نہیں بلکہ آخری پانچ مہینوں کا اندازہ ہے جبکہ قحط کا خطرہ ہے۔ممکن ہے اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے آئندہ فضل اچھی کر دے اور جوار وغیرہ نکل آنے کی وجہ سے گندم مستی ہو جائے۔(الفضل 30 مئی 1942 ء ) حضور کے مدنظر اس اہم تحریک کی دو اغراض تھیں۔جن کی حضور نے خود ہی وضاحت فرمائی کہ: اس اعلان کے کرنے میں میری دو غرضیں ہیں۔ایک تو یہ کہ قرآن کریم نے خرچ کرنے کی مختلف اقسام بیان فرمائی ہیں۔ان اقسام میں سے ایک قسم خرچ کی اپنے دوستوں ، اپنے رشتہ داروں اور اپنے بھائیوں کی امداد ہے۔مگر یہ اخراجات ان معنوں میں صدقہ نہیں کہلاتے جن معنوں میں غربا کو روپیہ دینا صدقہ کہلاتا ہے۔عربی زبان میں صدقہ کا مفہوم بہت وسیع ہے اور اس میں صرف اتنی بات داخل ہے کہ اپنے اس خرچ کے ذریعہ سے اس تعلق کا ثبوت دیا جائے جو انسان کو اپنے پیدا کرنے والے سے ہے۔صدقہ کے معنے خدا تعالیٰ سے اپنے بچے تعلق کا اظہار ہے۔تو صدقہ کی کئی اقسام ہیں اور لوگ عام طور پر قرآنی صدقہ کی بہت سی قسموں سے غافل ہوتے ہیں۔پس اس تحریک سے میرا