خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 234
234 علاقہ کو ہم دینی تعلیم کے لحاظ سے سنبھال سکتے ہیں اور ہر سال دس دس بیس ہیں ہزار اشخاص کی تعلیم و 66 تربیت ہم کر سکیں گے۔“ (الفضل 16 فروری 1958ء) حضرت مصلح موعودؓ نے 2 جنوری 1958ء کے خطبہ جمعہ میں وقف جدید کی اہمیت بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا: پس میں جماعت کے دوستوں کو ایک بار پھر اس وقف کی طرف توجہ دلاتا ہوں ہماری جماعت کو یا درکھنا چاہئے کہ اگر وہ ترقی کرنا چاہتی ہے تو اس کو اس قسم کے وقف جاری کرنے پڑیں گے اور چاروں طرف رشد و اصلاح کا جال پھیلانا پڑے گا یہاں تک کہ پنجاب کا کوئی گوشہ اور کوئی مقام ایسا نہ رہے جہاں رشد و اصلاح کی کوئی شاخ نہ ہو۔۔۔۔اب وہ زمانہ نہیں رہا کہ ایک مربی ایک ضلع میں مقرر ہو گیا اور وہ دورہ کرتا ہوا ہر ایک جگہ گھنٹہ گھنٹہ دو گھنٹے ٹھہرتا ہوا سارے ضلع میں پھر گیا اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ ہمارے مربی کو ہر گھر اور ہر جھونپڑی تک پہنچنا پڑے گا اور یہ اسی وقت ہو سکتا ہے جب میری یہ نئی سکیم پر عمل کیا جائے اور تمام پنجاب میں بلکہ کراچی سے لے کر پشاور تک ہر جگہ ایسے آدمی مقرر کر دئے جائیں جو اس علاقے کے لوگوں کے اندر ر ہیں اور ایسے مفید کام کریں کہ لوگ ان سے متاثر ہوں وہ انہیں پڑھا ئیں بھی اور رشد و اصلاح کے کام بھی کریں اور یہ جال اتنا وسیع طور پر پھیلایا جائے۔۔اور اس کے ذریعے گاؤں گاؤں اور قریہ قریہ کے لوگوں تک ہماری آواز پہنچ جائے بلکہ ہر گاؤں کے ہر گھر تک ہماری پہنچ ہو۔پس جب تک ہم اس مہا جال کو نہ پھیلائیں گے اس وقت تک ہم کامیاب نہیں ہو سکتے۔“ (الفضل 11 جنوری 1958ء) پھر فرمایا ” ہماری اصل سکیم تو یہ ہے کہ کم سے کم ڈیڑھ ہزار سینٹر سارے ملک میں قائم کر دیئے جائیں۔اگر ڈیڑھ ہزار سنٹر قائم ہو جائیں تو کراچی سے پشاور تک ہر پانچ میل پر ایک سنٹر قائم۔پس اگر ڈیڑھ ہزار سینٹر قائم ہو جائے تو ہمارے ملک کا کوئی گوشہ اصلاح و ارشاد ہو جاتا ہے۔کے دائرے سے باہر نہیں رہ سکتا۔- اس طرح وقف جدید دو اجزا پر مشتمل تھی 1۔واقفین زندگی اور معلمین کے ذریعہ تربیت اور دعوت الی اللہ کا نظام (الفضل 15 مارچ 1958ء)