خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 6
موقعہ کے مخاطب زیادہ تر طالب علم تھے۔اسی ضمن میں اپریل 1910ء میں حضرت خلیفہ اول نے بذریعہ اخبار یہ اعلان فرمایا کہ بعض احمدی دنیوی معاملات و معاہدات کر لیتے ہیں اور ہم سے مشورہ کرنا بلکہ اطلاع تک دینا پسند نہیں کرتے مگر جب مشکلات پیدا ہو جاتی ہیں تو شکایتی خطوط آنے لگ جاتے ہیں۔پس ہمارے دوستوں کو چاہئے کہ لین دین میں عاقبت اندیشی ، شریعت اور قانون عدالت کے مطابق کام کریں۔صرف احمدی کہلانا کوئی سرٹیفیکیٹ نہیں اور نہ اس سے احمدیت پر کوئی الزام ہے خدا کی مخلوق کثیر ہے۔امت محمدیہ کہلانے والے سب بد معاملگی کرتے ہیں تو اس طرح آنحضرت ﷺ پر کوئی اعتراض نہیں۔مخلوق خدا میں سے کوئی بد معاملگی کرتا ہے تو اس سے خالق پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔(بدر 5 مئی 1910 ء ص 8 کالم 1) تجنید تیار کرنے کی تحریک جماعت کو امت واحدہ بنانے اور خلیفہ وقت کے ہر حکم سے مطلع کرنے کے لئے حضور نے جولائی 1908ء میں تحریک فرمائی کہ جماعت کی مکمل تجنید تیار کی جائے تاکہ قادیان سے ہر فر د جماعت تک پیغام پہنچایا جا سکے۔چنانچہ الحکم 18 جولائی 1908ء میں تحریر ہے۔حضرت خلیفتہ المسیح نے ارادہ فرمایا ہے کہ تمام جماعت مبائعین کی ایک مکمل اور مفصل فہرست طیار ہوتا کہ تمام جماعت کے نام اور پورے پتے معلوم ہونے کی وجہ سے وہ ضروری امور جو وقتاً فوقتاً قادیان سے قومی معاملات کی نسبت شائع ہوتے ہیں۔ان سے حتی الوسع تمام قوم کو اطلاع پہنچانے کا (الحکم 18 جولائی 1908ء ص 8 کالم 3) انتظام ہو سکے۔نماز جمعہ کی ادائیگی کے لئے میموریل جماعت کے اندرونی اتحاد سے آگے بڑھ کر حضور تمام ہندوستان کے مسلمانوں کی وحدت کے خواہشمند تھے۔امت مسلمہ میں قومی وحدت کے قیام کے لئے جمعہ کا دن نہایت اہمیت رکھتا ہے۔یہ مسلمانوں کے لئے ایک نہایت ہی مبارک اور مقدس دن ہے اور اس کو مومنوں کے لئے عید قرار دیا گیا ہے۔اس لئے