خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 210
210 تھے جو اپنا تمام اندوختہ حضرت مسیح موعود کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔مضامین کی وسعت: (انوار العلوم جلد 14 ص 543) الفضل کے مضامین کی وسعت کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:۔میں تو حیران ہوتا ہوں کہ بعض دوست شکایت کرتے ہیں کہ الفضل میں سیاسی مضامین شائع ہوتے ہیں۔وہ یہ نہیں سمجھتے کہ اگر وہ دنیا کی سیاسیات سے واقف نہیں ہوں گے تو اس کی اصلاح کیسے کریں گے۔کیا سیاست قرآن کریم کا حصہ نہیں؟ ہاں اگر کوئی بات غلط شائع ہو تو اعتراض ہو سکتا ہے۔ایک دوست کو شکایت ہے کہ جاپان کے حالات اخبار الفضل میں کیوں درج ہوتے ہیں۔اور یہی لوگ ہیں جن کو میں کنویں کے مینڈک کہتا ہوں۔فکر تو یہ ہونی چاہئے کہ جاپان کے حالات تو شائع ہوتے ہیں فلپائن کے کیوں نہیں ہوتے؟ روس کے کیوں نہیں ہوتے؟ یہ غم تمہیں کھائے جانا چاہئے کہ کیا یہی ہماری پہنچ ہے کہ ہمارے اخبار میں صرف جاپان کے حالات ہی شائع ہوتے ہیں۔ہمارے دوستوں کو اس پر گلہ ہونا چاہئے کہ جو نہیں چھپا نہ کہ اس پر جو چھپ رہا ہے۔انہیں سوچنا چاہئے کہ کیا جاپان کی اصلاح ہمارا فرض نہیں؟ اگر ہے تو اس کے حالات کا علم نہ ہوگا تو ہمارے دل میں اس کے لئے در دکس طرح پیدا ہو گا اور ہم اس کی اصلاح کس طرح کر سکتے ہیں۔پس ہماری جماعت کو اپنے فرائض کو سمجھنا چاہئے اور یا درکھنا چاہئے کہ خدا تعالیٰ نے ہمیں دنیا کی اصلاح کے لئے پیدا کیا ہے۔خاص کر ایسے وقت میں جبکہ دنیا میں اس قدر خرابیاں پیدا ہو چکی ہیں۔کیا ایک طبیب کہہ سکتا ہے کہ لوگ آکر مجھے تنگ کرتے ہیں جو اپنی بیماریاں مجھے بتاتے ہیں؟ اگر وہ ان بیماریوں سے آگاہ نہ ہو تو علاج کس طرح کر سکتا ہے۔اسی طرح جب تک تمام دنیا کے حالات سے واقف نہ ہواس کی اصلاح کیسے کر سکتے ہو۔( خطبات محمود جلد 18 ص 10) یہ آپ کا فائدہ ہے: حضرت مصلح موعودؓ نے فرمایا:۔جماعت کے دوستوں کو میں توجہ دلاتا ہوں اور گو پہلے بھی کئی دفعہ توجہ دلا چکا ہوں مگر معلوم ہوتا ہے۔دوست میرے الفاظ کو رسمی سمجھتے ہیں اور وہ خیال کرتے ہیں کہ میں اخبار کی امداد کا اعلان کر رہا ہوں