خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 204 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 204

204 فرمایا: ”ربوہ کی بنیاد کی غرض یہ تھی کہ یہاں زیادہ سے زیادہ نیکی اختیار کرنے والوں کو اس غرض سے بسنا چاہئے کہ وہ یہاں رہ کر دین کی اشاعت میں دوسروں سے زیادہ حصہ لیں گے۔ہم نے اس مقام کو اس لئے بنایا ہے کہ تا اشاعت دین میں حصہ لینے والے لوگ یہاں جمع ہوں اور دین کی اشاعت کریں اور اس کی خاطر قربانی کریں۔پس تم یہاں رہ کر نیک نمونہ دکھاؤ اور اپنی اصلاح کی کوشش کرو۔تم خدا تعالیٰ سے تعلق قائم کر لو۔اگر تم اس کی رضا کو حاصل کر لو تو ساری مصیبتیں اور کوفتیں دور ہو جائیں اور راحت کے سامان پیدا ہو جائیں“۔صفائی اور شجر کاری ربوہ کی صفائی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے حضور نے فرمایا:۔تاریخ احمدیت جلد 13 ص172) شہر کی صفائی کی طرف توجہ کرو اور درخت اور پھول اور سبزیاں لگاؤ۔جن لوگوں نے گھروں میں درخت لگائے ہوئے ہیں۔انہیں دیکھ کر دل بہت خوش ہوتا ہے۔گلی میں سے گزریں تو لہلہاتے درخت نہایت بھلے معلوم ہوتے ہیں۔لیکن اصل میں یہ کام میونسپل کمیٹی اور لوکل انجمن کا ہے۔اگر سارے مل کر کوشش کریں تو وہ شہر کو دلہن بنا سکتے ہیں۔اب بھی جب میں تصور کرتا ہوں تو یورپ کا نظارہ میری آنکھوں کے سامنے آجاتا ہے۔ہر گھر میں دروازوں کے آگے چھجے بنے ہوئے ہیں اور ان پر بکسوں میں بھری ہوئی مٹی پڑی ہے اور اس میں پھول لگے ہوئے ہیں۔جس گلی میں سے گز رو پھول ہی پھول نظر آتے ہیں اور سارا شہر ایک گلدستہ کی طرح معلوم ہوتا ہے۔ربوہ بھی اسی طرح بنایا جاسکتا ہے۔بڑی محنت کی ضرورت نہیں تھوڑی سی توجہ کی ضرورت ہے۔اس سے بیوی بچوں کو باغبانی کا فن بھی آتا ہے۔صحت بھی اچھی ہو جاتی ہے اور کچھ آمد کی صورت بھی پیدا ہو جاتی ہے۔مثلاً گھروں میں خربوزے۔لکڑی اور دوسری چیزیں لگا دی جائیں تو خوبصورتی کی خوبصورتی نظر آئے گی۔صحت بھی اچھی رہے گی اور کھانے کو ترکاری بھی مل جائے گی جو یہاں نصیب نہیں۔میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ یورپ کا ڈا کٹر بھی کہتا ہے کہ سبزیاں کھاؤ مگر پاکستان میں سبزیاں نہیں ملتیں۔اگر لوگ گھروں میں سبزیاں لگانے لگ جائیں اور سبزیاں کھانے کی عادت ڈالیں تو اس سے ان کی صحت میں بھی ترقی ہوگی اور پھر جو شخص گھروں میں سبزیاں لگائے گا اور اسے سبزیاں کھانے کی عادت ہوگی۔وہ دکاندار