خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات

by Other Authors

Page 109 of 613

خلفاء احمدیت کی تحریکات اور ان کے شیریں ثمرات — Page 109

109 اس تحریک کے بعد حضور نے تحفہ شہزادہ ویلز کے نام سے ایک عظیم الشان کتاب تصنیف فرمائی۔جس میں آپ نے شہزادہ کو سچائی کا پیغام دیا۔اس کتاب کو آپ کی تجویز کے مطابق جماعت احمدیہ کے بتیس ہزار سے زائد افراد نے ایک ایک آنہ فی کس آمدنی جمع کر کے شائع کیا اور 27 فروری 1922ء کو لاہور میں احمد یہ وفد کے ذریعہ ایک مرصع رو پہلی کشتی میں شہزادہ کے سامنے پیش کیا۔شہزادہ ویلز نے اس لاثانی تحفہ کو نہایت قدر و احترام کی نگاہ سے دیکھا اور نہ صرف اپنے چیف سیکرٹری کے توسط سے اس کا شکریہ ادا کیا بلکہ یکم مارچ 1922ء کو لاہور سے جموں تک کے سفر میں سے مکمل طور پر مطالعہ کیا اور بہت خوش ہوئے اور جیسا کے بعد کی اطلاعات سے معلوم ہوا کہ کتاب پڑھتے پڑھتے بعض مقامات پر ان کا چہرہ گلاب کی طرح شگفتہ ہو جاتا تھا۔اس طرح ان کے ایڈی کا نگ نے یہ بھی بتایا کہ وہ کتاب پڑھتے پڑھتے یکدم کھڑے ہو جاتے تھے۔چنانچہ اس کے کچھ عرصہ بعد انہوں نے صراحتاً عیسائیت سے بیزاری کا اظہار کیا۔اخبار ” ذوالفقار (24 اپریل 1922ء) نے اس کتاب پر یہ ریویو کیا کہ ہم خلیفہ ثانی کی سلسلہ احمدیہ کی اشاعت اسلام میں ہمت کی داد دیئے بغیر نہیں رہ سکتے تحفہ ویلز کا بہت سا حصہ ایسا ہے جو تبلیغ اسلام سے لبریز ہے اور ایک عظیم الشان کارنامہ ہے کہ جس کو دیکھتے ہوئے غیر احمدی ضرور شک کریں گے یہ ضروری ہے کہ ہم اخبار نویسی کے میز پر تعصب کی مالا گلے سے اتار کر رکھ دیتے ہیں۔اس واسطے اس تحفہ کو دیکھ کر ہم عش عش کر اٹھے۔(بحوالہ الفضل 8 مئی 1922ء) تحفہ لارڈارون: لا رڈارون 1926ء میں ہندوستان میں وائسرائے ہو کر آئے اور 1931 ء تک اس عہدہ پر فائز رہے۔لارڈارون نہایت خوش خلق ، نیک دل اور مذہبی آدمی تھے۔جنہوں نے اپنے پانچ سالہ دور حکومت میں اعلیٰ اخلاقی نمونہ پیش کیا۔لا رڈارون جب ہندوستان سے رخصت ہونے لگے تو دوسروں نے تو ان کو مادی تحفے تحائف پیش کئے مگر حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے ایک کتاب تحفہ لا رڈارون کے نام سے ( 27 مارچ سے 31 مارچ 1931 ء تک) پانچ روز میں تصنیف فرمائی جو احمد یہ وفد نے 8 اپریل 1931 ء کو