تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 6 of 65

تحریک وقف نو — Page 6

3 2 سمِ اللهِ الرَّحْمنِ الرَّحِيم تشهد و تعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور نے مندرجہ ذیل آیت کی تلاوت فرمائی قُلْ إِن كَانَ أَبَاؤُكُمْ وَابْنَا لَكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتَكُمْ وَأَمْوَالَ إِبْتَر وها وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَاءَهَا وَ مَسكِن مَد ب اليْكُمْ مِنَ اللهِ وَرَسُولِهِ وَ جهاد في حنيلِهِ فَتَرَ بموا دى القوم الفقين (التوبه (۳۳) اور پھر فرمایا :- گذشتہ خطبہ میں میں نے قرآن کریم کی ایک اور آیت تلاوت کی تھی: قُلْ إِن كُنتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ الله اے محمد ! یہ اعلان کر دے کہ اگر تم واقعی حقیقی اللہ سے محبت کرتے ہو یا واقعی خدا محبت کرنا چاہتے ہو فاتبعوني يُحبكم الله تو تم میری پیروی کرد یقینا خدا تم سے محبت کرنے لگے گا۔اس مضمون کے کچھ پہلو میں نے گذشتہ خطبے میں بیان کئے تھے کچھ آج بیان کروں گا۔لیکن اس سے پہلے میں یہ بتانا چاہتا ہوں کہ اس دوسری آیت کے تابع جو میں نے ابھی تلاوت کی ہے۔جب اللہ تعالیٰ کی محبت کے دعوتی کے نتیجہ میں آنحضرت ﷺ کی اتباع اور پیروی کا حکم ملا ہے تو سوال یہ ہے کہ اس میں کیا منطقی جوڑ ہے اور پھر یہ پیردی کس طرح ہو سکتی ہے کس رنگ میں پیروی کی تاکید فرمائی گئی ہے۔ایک انسان ایک ملک کے قانون کی بھی اطاعت کرتا ہے اور بعض دفعہ اپنے انسٹرکٹر کی بھی پیروی کرتا ہے خواہ وہ جس موضوع پر بھی مقرر ہوا ہو اس کی نقل اتارتا ہے اور یہ دونوں قسم کی اطاعتیں محبت کے بغیر ہوتی ہیں۔بسا اوقات ان میں محبت کا نہیں بلکہ نفرت کا پہلو بھی پایا جاتا ہے۔چنانچہ دنیا میں بڑے بڑے ظالم ڈکٹیٹر گزرے ہیں اور آج بھی موجود ہیں جن کی کروڑوں کی تعداد میں قوموں کے افراد اطاعت کر رہے ہیں اور نفرت کے ساتھ اطاعت کر رہے ہیں۔پس اگر یہ اسی قسم کا حکم ہے جیسے ایک جابر آدمی حکم صادر کر دیتا ہے کہ تم میرے قبضہ قدرت میں ہو تمہاری مجال نہیں کہ میرے حکم کی نافرمانی کر سکو اس لئے اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو پھر محمد مصطفی ﷺ کی پیروی کرو۔کیا نَعُوذُ بِاللهِ مِن ذلك یہ مضمون بیان ہوا ہے؟ یہ مضمون ہو ہی نہیں سکتا کیونکہ آغاز اس بات سے کیا گیا ہے إن كنتم تحبون الله اگر تم اللہ سے محبت کرتے ہو۔اس میں ڈکٹیٹر شپ اور مغلوب کے تعلقات کا کوئی تصور ہی نہیں پایا جاتا۔تحبون اللہ کی شرط نے واضح کر دیا کہ جو کچھ بھی کرو گے محبت کی وجہ سے کرو گے۔اس لئے خدا کی محبت کا یہ ایک منطقی رشتہ ہے جسے محمد مصطفی ہے کی غلامی اور اطاعت میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔پس اس اطاعت میں بھی محبت ہی کا پہلو غالب رہنا چاہئے اور محبت ہی کے نتیجہ میں وہ اطاعت ہونی چاہئے۔اطاعت رسول کی تفصیلات اور اس کا منطقی نتیجہ: اب اگلا سوال یہ ہے کہ حکماء بھی محبت ہو سکتی ہے؟ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کیا مجھ سے تمہیں محبت ہے؟ ہم کہتے ہیں ہاں ہمیں محبت ہے ، ہم نے دنیا میں تیرا حسن جلوہ گر دیکھا، پھر تیرے اتنے بے انتہا احسانات ہیں جو صبح دوپہر اور شام ہم پر ہو رہے ہیں دن اور رات کا لمحہ لمحہ ہم تیرے فضلوں کو دیکھتے ہیں۔غرض یہ کہ ہر لمحہ اور ہر آن کا ئنات کے حسن میں تیرے فضلوں کو ہم جلوہ گر دیکھتے ہیں اور ہم تجھ پر عاشق ہوتے چلے جا رہے ہیں۔اور پھر ہر روز تو نے ہمیں سامان زندگی مہیا فرمائے ہیں۔پیار اور محبت کے ساتھ ہر قسم کی نعمتیں عطا کیں، زندگی کے نظام کی حفاظت کیلئے ہر قسم کے سامان بخشے، ترقیات کے قوانین ایسے بنائے جن کے نتیجہ میں انسان مسلسل آگے بڑھتا چلا جا رہا ہے۔غرضیکہ اس مضمون کا احاطہ تو نہیں ہو سکتا لیکن خلافتہ " ایک انسان یہ کہ سکتا ہے کہ ہم تجھ سے محبت کرتے ہیں اس لئے کہ تیری محبت کی وجوہات اور تیرے حسن کی