تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 58 of 65

تحریک وقف نو — Page 58

107 106 میں جانتا تھا کہ محمد رسول اللہ ﷺ کی خاطر دیوار برلن گرائی جا رہی ہے اور اب اسلام کے ان ملکوں میں پھیلنے کے دن آرہے ہیں اور دہ تیاریاں جو خدا کی تقدیر نے ہم سے کروائی تھیں وہ رائیگاں نہیں جائیں گی ان کو خدا تعالٰی نے اس رنگ میں مکمل فرمایا اور ایسے وقت میں مکمل فرمایا جبکہ دوسری طرح سے روکیں توڑنے کے سامان بھی تیار تھے اور جونہی ہم یہاں خدمت کے لیے تیار ہوئے خدا تعالٰی نے وہ حائل روکیں ساری ر کرنی شروع کر دیں یہ وہ زندہ خدا ہے جو احمدیت کا خدا ہے جس نے ہمیشہ احمدیت کی پشت پناہی فرمائی ہے اور ہر قدم پر ہماری مدد فرمائی ہے۔رور کون دنیا کی طاقت ہے جو اس خدا کی محبت ہمارے دل سے نوچ کر پھینک سکتی ہے: کون ہے جو ہمارے دل میں شکوک پیدا کر سکتا ہے ہم اس خدا کی تقدیر کو روز مرد ہمیشہ ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں مختلف صورتوں میں ظاہر ہوتے دیکھتے ہیں کبھی کبھی مختلف بکھری ہوئی صورتوں میں ظاہر دیکھتے ہیں اور کبھی کبھی ان صورتوں کا اجتماع ہوتا دیکھتے ہیں اور ایک نہایت ہی خوبصورت منظم مشکل نظر آتی ہے ان تدبیروں کی۔اور اس وقتہ معلوم ہوتا ہے کہ ہم جب سوئے ہوئے ہوتے ہیں جب ہم بعض باتوں سے غافل ہوتے ہیں تو ہمارا خدا واقعی جاگتا ہے اور واقعی ان کاموں کو ہمارے لیے کرتا ہے جن کاموں سے ہم غافل ہوتے ہیں جن کاموں کے کرنے کی ہم میں طاقت نہیں ہوتی۔پس ایک طرف خدا کی تقدیر نے وہ کام ہمارے لئے آسان کر دیئے جو کام بہت مشکل تھے اور اب بھی جب ماہرین ان باتوں کو دیکھتے ہیں تو یقین نہیں کرتے کہ اتنے تھوڑے عرصے میں اتنے حیرت انگیز کام کیسے سرانجام دینے کی توفیق ملی لیکن ان کو نہیں پتہ کہ دراصل یہ اللہ کی قدرت کا ہاتھ ہے اس کی محبت اور رافت اور شفقت کا ہاتھ ہے جو ہر مشکل کو آسان کرتا چلا جاتا ہے اور اب جو نئے سامان پیدا ہوئے ہیں ان کے نتیجے میں میں سمجھتا ہوں کہ اللہ تعالٰی کے فضل سے اسلام کے غلبے کا یہ دوسرا دور بڑی تیزی کے ساتھ اثر پذیر ہو جائیگا دوسرے دور سے مراد "آخرین" کا دور ہے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا دور ہے اور تیزی کیساتھ اثر پذیر ہونے سے مراد میری یہ ہے کہ اب اس رفتار میں مزید تیزی پیدا ہو گی اور وہ علاقے جو اب تک خالی تھے اور وہ دنیا کی ایک بہت بڑی تعداد ہے ان علاقوں کی تعداد باقی دنیا کے علاقوں سے اگر زیادہ نہیں تو بہت کم بھی نہیں ہو سکتی کیونکہ انہی علاقوں میں سارے چین کی آبادی شامل ہے سارے روس کی آبادی شامل ہے سارا مشرقی یورپ ہے پھر اور ایسی مشرقی طاقتیں ہیں یا مشرقی ممالک ہیں جو اشتراکیت کے دام میں آئے ہوئے ہیں تو بہت بڑی وسیع آبادی ہے نصف دنیا کے قریب ایسی انسانوں کی آبادیاں ہیں جن تک پہلے اسلام کا پیغام پہنچنے کا کوئی ساہن نہیں تھے تو اس لئے جہاں ان باتوں کو دیکھ کر دل شکر اور حمد سے بھر جاتا ہے اور یقین ہو جاتا ہے کہ یہ کام خدا ہی کے ہیں خدا ہی نے کرنے ہیں وہاں ذمہ داریوں کا احساس بھی پڑھتا ہے اور انسان کی یہ تقدیر سامنے آجاتی ہے کہ ایک بوجھ اترتا ہے تو دوسرا سر پر آجاتا ہے ایک مشکل آسان ہوتی ہے تو دوسری مشکل سر پر آن پڑتی ہے اب فکر اس بات کی ہے کہ ان نئے کھیلتے ہوئے راستوں میں داخل کرنے کے لیے وہ کون سی فوج ہے ہمارے پاس جس سے ہم کام لیں گے اور وہ کون سے ایسے را تعین ہیں جو ان نئی ذمہ داریوں کو ادا کرنے کی اہلیت رکھتے ہیں سردست تو ہمارے پاس ان زبانوں کے ایسے ماہرین نہیں ہیں جو وہاں پہنچکر خدمتیں سر انجام دے سکیں اس لیے میں سمجھتا ہوں کہ اس پہلے دور میں تو ہمیں اشاعت لٹریچر کے ذریعے وہاں دلوں کو آمادہ کرنا ہوگا اور جیسا کہ میں نے اس سے پہلے بارھا توجہ دلائی ہے باہر کی دنیا کے وہ لوگ جن میں ان ملکوں کے