تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 56 of 65

تحریک وقف نو — Page 56

103 102 تھی کہ میں تجھے روس میں اس کثرت سے مسلمان عطا کروں گا کہ آپ نے اس نظارے کو یوں بیان فرمایا جیسے ریت کے ذرے ہوں اور اس کے علاوہ روس کا عصا آپ کے ہاتھوں میں تھمایا گیا جو رویا میں یوں معلوم ہوا جیسے اس کے اندر دو نالی بندوق ہوتی ہے یعنی عصا ایسا جو دور بار ہو اور دور اثر ہو۔جب تک انگلستان آنے کی تقدیر یا انگلستان لائے جانے کی تقدیر ظاہر نہیں ہوئی ان امور پر نظر ان معنوں میں تو تھی کہ یہ خدا کی طرف سے عطا کردہ خوشخبریاں تمھیں اور ہر احمدی کا دل مطمئن تھا کہ یقینا یہ پوری ہوں گی لیکن کیسے ہوں گی اور انہیں پورا کرنے کے لیئے مومن کو جو اپنا کردار ادا کرنا چاہئے وہ ہم کیسے ادا کریں گے ان چیزوں پر نظر نہیں تھی نہ ان حالات میں ہو سکتی تھی یہاں آنے کے بعد سب سے پہلے کاموں میں سے ایک یہ کام کرنے کی توفیق ملی کہ اشتراکی مشرقی دنیا میں جتنے ممالک ہیں ان کی زبانوں میں اسلام کا پیغام پہنچانے کے لیے چھوٹے چھوٹے رسالے اور کتابیں تیار ہونا شروع ہوئیں اور قرآن کریم کے بعض مکمل ترجمے ان زبانوں میں کرنے کی توفیق علی اور بعض زبانوں میں اقتباسات شائع کرنے کی توفیق ملی اسی طرح احادیث نبویہ میں سے منتخب احادیث جو ھم نے سوچا کہ اس زمانے کی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لیے اور انسان کی ضرورتوں کے لحاظ سے پیاس بجھانے کے لیے اہمیت رکھتی ہیں ان کا ترجمہ کرنے کی اور ان کی اشاعت کی توفیق ملی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے بہت سے اقتباسات جو قرآن کریم کی آیات اور احادیث کے مضمون سے مطابقت رکھتے تھے اور انہیں کی تفسیر تھے ان کو اس نقطہ نگاہ سے چنے کی توفیق ملی کہ ایک پڑھنے والا جب قرآن کریم کے مضامین سے گزر کر احادیث کے مضامین سے ہوتا ہوا حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اقتباسات تک پہنچتا ہے تو اسے پہلی دونوں تحریروں کا زیادہ لطف آنے لگے اور اس کا ذہن زیادہ عمدگی کیساتھ ان کے مطالب کو پا سکے اور اس کے اندر یہ احساس قوی تر ہوتا چلا جائے که قرآن کریم کی تفسیر حضرت رسول اکرم ﷺ کے کلام میں ہے اور آنحضرت کے کلام کی تغییر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے کلام میں ہے تو اس طرح ان کے درمیان ایک تطبیق پیدا کرنے کی بھی کوشش کی گئی کسی حد تک اس کی توفیق ملی اور پھر ان کے تراجم کیے گئے اور کتابیں اشاعت کے لیئے تیار ہوئیں یہ سب کچھ ہو رہا تھا لیکن کچھ علم نہیں تھا کہ ان کتابوں کو اس لڑ پچر کو ان ملکوں تک پہنچانے کے سامان کیسے میسر آئیں گے صرف یہی نہیں اور بھی بہت سے مضامین پر رسالے شائع کیے گئے تراجم تیار کیے گئے اور ان کی طباعت کروائی گئی آپ شاید ہی اندازہ کر سکیں کہ یہ کام کتنا مشکل تھا اور کتنا ذمے داری کا کام تھا کیونکہ صحیح آدمی کی تلاش کرنا اور اس سے رابطہ کرنا اور اس کو تیار کرنا کہ ان کتب کا ترجمہ کرے یا ان رسائل کا ترجمہ کرے اور پھر یہ نگاہ رکھنا کہ وہ ترجمہ درست اور اصل کے مطابق ہے جب کہ ہم خود ان زبانوں سے نابلد ہیں اس کے لئے متبادل ماہرین کی تلاش کرنا ایسے جنمیں سے بہتوں کی عربی پر بھی نظر ہو اور اسلام کی اصطلاحات سے بھی واقف ہوں یہ ایک بہت ہی وسیع کام تھا لیکن اللہ تعالی نے آغاز ہی سے اس کو آسان فرمانا شروع کر دیا۔ہمارے ایک نوجوان اسلام آباد میں روسی زبان سیکھ رہے تھے ان کے دل میں اللہ تعالی نے یہ بات ڈال دی کہ وہ اپنی زندگی اسلام کے لیے وقف کردین چنانچہ انہوں نے وقف کیا اور میں نے اسے قبول کر لیا پھر وہ یہاں انگلستان تشریف نے آئے اور مسلسل اس کے بعد سے ان کے ذریعہ سے ہمارے رابطے وسیع ہونے شروع ہوئے پہلا کام روی زبان میں قرآن کے ترجمے کا کام تھا اور اس کو ہم سب سے زیادہ