تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 40 of 65

تحریک وقف نو — Page 40

71 70 کرتی ہیں اور اپنے لیئے بھی۔مطالبے میں فی ذاتہ کوئی نقص نہیں لیکن اگر مطالبہ توفیق سے بڑ مکہ ہو تو پھر خواہ خاوند سے ہو یا ہاں باپ سے یا دوستوں سے تو زندگی کو اجیرن بنا دیتا ہے۔اللہ تعالٰی نے اس معاملے میں ہمیں کیا خوبصورت سبق دیا جب فرمایا لا يكلف الله نشا الاوعها کہ خدا کسی کی توفیق سے بڑھ کر اس سے مطالبہ نہیں کرتا۔تو بندوں کا کیا حق ہے کہ توفیق سے بڑھکر مطالبے کریں۔پس واقعین زندگی کی بیویوں کے لیے یا واقفین زندگی لڑکیوں کے لیے یہ ضروری ہے کہ یہ سلیقہ سیکھیں کہ کسی سے اسکی توفیق سے بڑھکر نہ توقع رکھیں نہ مطالبہ کریں اور قناعت کے ساتھ کم پر راضی رہنا سیکھ لیں۔اس ضمن میں ایک اہم بات جو بتائی چاہتا ہوں کہ حضرت مصلح موعود نے واقفین کی تحریک کے ساتھ ایک یہ بھی تحریک فرمانی که امیر گھروں کے بچوں کے لیے گھر کے باقی افراد کو یہ قربانی کرنی چاہئے کہ اسکے وقف کی وجہ سے اسکے لیے خصوصیت کے ساتھ کچھ مالی مراعات میا کریں اور یہ سمجھیں کہ جتنا مالی لحاظ سے ہم اسکو بے نیاز بنائیں گے اتنا بہتر رنگ میں وہ قومی ذمہ داریوں کی امانت کا حق ادا کر سکے گا۔اس نصیحت کا اطلاق صرف امیر گھرانوں پر نہیں بلکہ غریب گھرانوں پر بھی ہوتا ہے۔ہر واقف زندگی گھر کو یعنی ہر گھر جس میں کوئی واقف زندگی ہے آج ہی سے یہ فیصلہ کر لینا چاہئے کہ خدا ہمیں جس پر رکھے گا ہم اپنے واقف زندگی تعلق والے کو اس سے کم معیار پر نہیں رہنے دیں گے یعنی جماعت کے مطالبے کی بجائے بھائی اور بہنیں یا ماں باپ اگر زندہ ہوں اور توفیق رکھتے ہوں یا دیگر قریبی مل کر یہ ایسا نظام بنائیں گے کہ واقف زندگی بچہ اپنے زندگی کے معیار میں اپنے گھر والوں کے ماحول اور انکے معیار سے کم تر نہ رہے۔چنانچہ ایسے بچے جب زندگی کی دوڑ میں حصہ لیتے ہیں تو کسی قسم کے (Complex Inferiority) یعنی احساس کمتری کا شکار نہیں رہتے اور امانت کا حق زیادہ بہتر ادا کر سکتے ہیں۔جہاں تک بچیوں کی تعلیم کا تعلق ہے اس میں خصوصیت کے ساتھ تعلیم دینے کی تعلیم دلانا یعنی ایجو کیشن کی انسٹرکشن جسے (in Education Bachelor Degree) غالبا" کہا جاتا ہے یا جو بھی اسکا نام ہے مطلب یہ ہے کہ انکو استانیاں بننے کی ٹریننگ دلوانا خواہ انکو استانی بنانا ہو یا نہ بنانا ہو انکے لیے مفید ہو سکتا ہے۔اسی طرح لیڈی ڈاکٹرز کی جماعت کو خدمت کے میدان میں بہت ضرورت ہے پھر کمپیوٹر سپیشلسٹ کی ضرورت ہے اور ٹائپسٹ کی ضرورت ہے اور یہ سارے کام عورتیں مردوں کے ملے جلے بغیر، سوائے ڈاکٹری کے باقی سارے کام عمدگی سے سر انجام دے سکتی ہیں۔پھر زبانوں کا ماہر بھی انکو بنایا جائے یعنی لٹریری (Literary) نقطہ نگاہ سے ادبی نقطہ نگاہ سے انکو زبانوں کا چوٹی کا ماہر بنانا چاہئے تاکہ یہ جماعت کی تصنیفی خدمات کر سکیں۔اسطرح اگر ہم سب اپنی آئندہ وا تین نسلوں کی نگہداشت کریں اور انکی پرورش کریں انکو بہترین واقف بنانے میں مل کر جماعتی لحاظ سے اور انفرادی لحاظ سے سعی کریں تو میں امید رکھتا ہوں کہ آئندہ صدی کے اوپر جماعت احمدیہ کی اس صدی کی نسلوں کا ایک ایسا احسان ہو گا کہ جسے وہ ہمیشہ جذبہ تشکر اور دعاؤں کے ساتھ یاد کریں گے۔آخر پر یہ جانا ضروری ہے کہ سب سے زیادہ زور تربیت میں دعا پر ہونا چاہئے یعنی ان بچوں کے لیے ہمیشہ درد مندانہ دعائیں کرنا اور ان بچوں کو دعا کرنا سکھانا اور دعا کرنے کی تربیت دینا تاکہ بچپن ہی سے یہ اپنے رب سے ایک ذاتی گہرا تعلق قائم کر لیں اور اس تعلق کے پھل کھانے شروع کردیں۔جو بچہ دعا کے ذریعے اپنے رب کے احسانات کا مشاہدہ کرنے لگتا ہے وہ بچپن ہی سے ایک ایسی روحانی شخصیت حاصل کر لیتا ہے جسکا مربی ہمیشہ خدا بنا