تحریک وقف نو

by Hazrat Mirza Tahir Ahmad

Page 17 of 65

تحریک وقف نو — Page 17

25 24 قربانی کی روح کو قبول فرماتے ہوئے ان کو بھی اولاد دیدے خدا تعالی اس سے پہلے یہ کر چکا ہے۔جو انبیاء اولاد کی دعائیں مانگتے ہیں وقف کی خاطر با نگتے ہیں تو بعض دفعہ پڑھا ہے میں بھی ان کو اولاد ہو جاتی ہے۔ایسی صورت میں بھی ہو جاتی ہے کہ بیوی بھی بانجھ اور خاوند بھی۔حضرت ذکریا کو دیکھیں کس شان کی دعا کی یہ عرض کرتے ہیں کہ اے خدا!! میں تو بوڑھا ہو گیا ہوں میرا سر بھڑک اٹھا ہے بڑھاپے کے شعلوں سے ہڈیاں تک جل گئی ہیں اور میری بیوی بانجھ ہے عاقر ہے بچہ پیدا کرنے کی صلاحیت ہی کوئی نہیں لیکن میری یہ تمنا ہے کہ میں تیری راہ میں ایک بچہ پیش کروں میری یہ تمنا قبول فرما دله ان بی تابوت تبقيا اے میرے رب ! میں تیرے حضور یہ دعا کرتے کرتے کبھی بھی مایوس نہیں ہوا۔کبھی بھی کسی دعا سے بھی تیرے حضور مایوس نہیں ہوا شفیا کا لفظ حیرت انگیز فصاحت و بلاغت رکھتا ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ اے خدا میں ایسا بد بخت تو نہیں کہ تیرے حضور دعا کر رہا ہوں اور مایوس ہو جاؤں اور تھک جاؤں اس عظمت کی اس درد کی دعا تھی کہ اسی وقت دعا کی حالت میں اللہ تعالٰی فرماتا ہے کہ ہم نے تجھے بیٹی کی خوشخبری وی خود اس کا نام رکھا اس میں بھی عظیم الشان خدا کے پیار کا اظہار ہے عجیب کتاب ہے قرآن کریم ایسی ایسی پیار کی ادائیں سکھاتی ہے کہ آدمی حیران رہ جاتا ہے۔آپ کے ہاں بچہ پیدا ہوتا ہے۔آپ سوچتے ہیں کس سے نام رکھوائیں اور اسی جذیہ سے جو لکھی محبت جماعت احمدیہ کو ہر خلیفہ وقت سے ہوتی ہے بعض لوگ بنکہ بڑی کثرت سے لوگ مجھے لکھتے ہیں تو اللہ تعالٰی نے پیشتر اس کے کہ حضرت ذکریا کہتے ہیں میں اس کا کیا نام رکھوں یا سوچتے کہ میں کیا نام رکھوں خوشخبری کے ساتھ ہی فرمایا اسمه يعني ہم رکھ رہے ہیں نام یہ پیار حضرت ذکریا سے تھا یہ حضرت ذکریا کی دعا سے پیار تھا۔اگلی صدی میں خدا کے حضور پیش کیا جانے والا تحفہ: میں اس رنگ میں آپ اگلی صدی میں جو خدا کے حضور جو تحفے بھیجنے والے ہیں یا مسلسل بھیج رہے ہیں مسلسل احمدی اللہ تعالی کے فضل کے ساتھ بے شمار چندے دے رہے ہیں۔مالی قربانیں کر رہے ہیں ، وقت کی قربانیاں کر رہے ہیں۔را تضمین زندگی ہیں ایک تحفہ جو مستقبل کا تحفہ ہے وہ باقی رہ گیا تھا۔مجھے خدا نے یہ توجہ دلائی کہ میں آپ کو تا دوں کہ آئندہ دو سال کے اندر یہ محمد کرلیں جس کو بھی جو اولاد نصیب ہوگی وہ خدا کے حضور پیش کر دے اور اگر آج کچھ مائیں حاملہ ہیں تو وہ بھی اس تحریک میں اگر پہلے شامل نہیں ہو سکی تھیں۔تو اب ہو جائیں یہ بھی مدد کریں لیکن ماں باپ کو مل کر عہد کرنا ہو گا دونوں کو اکٹھے فیصلہ کرنا چاہئے تاکہ اس سلسلہ میں پھر یک جہتی پیدا ہو اولاد کی تربیت میں اور بچپن ہی سے ان کی اعلیٰ تربیت کرنی شروع کر دیں اور اعلیٰ تربیت کے ساتھ ان کو بچپن ہی سے اس بات پر آمادہ کرنا شروع کریں کہ تم ایک عظیم مقصد کے لئے ایک عظیم الشان وقت میں پیدا ہوئے ہو جبکہ علیہ اسلام کی ایک صدی علیہ اسلام کی دوسری صدی سے مل گئی ہے۔اس سنگم پر تمہاری پیدائش ہوئی ہے اور اس نیت اور دعا کے ساتھ ہم نے تجھ کو مانگا تھا خدا ہے کہ اے خدا تو آئندہ نسلوں کی تربیت کے لئے ان کو عظیم الشان مجاہد بنا۔اگر اس طرح دعائیں کرتے ہوئے لوگ اپنے آئندہ بچوں کو وقف کریں گے تو مجھے یقین ہے۔کہ ایک بہت ہی حسین اور بہت ہی یاری نسل ہماری آنکھوں کے سامنے دیکھتے دیکھتے اپنے آپ کو خدا کی راہ میں قربان کرنے کے لئے تیار ہو جائے گی۔اللہ تعالٰی ہمیں اس کی توفیق عطا فرمائے۔آمین