تحریک وقف نو — Page 8
7 6 اس کی ناراضگی کے مورد بن جاؤ۔فرمایا والله لا يَهْدِي القدم التقني خدا تعالیٰ فاستوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔قرآن کریم نے فسق کی تعریف فرمائی ہے اور فسق کی یہ تعریف آپ کو دنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں ملے گی۔فسق سے تو ہم عموماً یہ سمجھا کرتے تھے کہ گناہ کرنا یا واضح طور پر ناپسندیدہ حرکت کرنا لیکن قرآن کریم نے فسق کو محبت کے مضمون میں داخل فرما کر عدم محبت کو فق قرار دیا۔فرمایا خدا کے بعد محمد مصطفی اے کی محبت لازم ہے۔اگر تم اس وجود سے نہیں کرتے تو تم فاسق ہو۔اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ محبت نہ کرنے کا تعلق فق سے کیا ہے؟ یہ تعلق حضرت بانی سلسلہ عالیہ احمدیہ نے بیان فرمایا۔آپ فرماتے ہیں کہ آنحضرت ا کی زندگی کا ہر لمحہ خدا تعالٰی کی اطاعت میں تھا ایک ذرہ بھی ایسا نہیں جس میں کوئی نقص ہو اگر کوئی نقص ہوتا تو خدا تعالیٰ ہمیں کامل پیروی کا حکم نہ دیتا۔جب خدا نے کامل پیروی کا حکم دیا تو معلوم ہوا کہ آپ ﷺ کی زندگی کا ہر لمحہ خدا کی رضا کے نیچے ہے۔اور جو عمل خدا کی رضا سے باہر ہے وہ فتق ہے۔پس قرآن کریم نے فتق کی تعریف محبت کے مضمون میں لپیٹ کر بیان کی ہے۔لیکن حیرت انگیز ہے۔اگر تمہیں محمد رسول اللہ اللہ اور آپ کی جہاد والی زندگی سے پیار نہیں ہے یعنی رسول اکرم ﷺ نے زندگی بھر جو جہاد کر کے دکھایا ہے اس کی تمہارے دل میں قدر نہیں ہے تو پھر تمہاری حالت فاستوں جیسی ہے اور جہاں جہاں تم اس سنت سے بنتے ہو رہاں فسق میں داخل ہو جاتے ہو اور اللہ تعالٰی فاستوں کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔جہاد سے محبت کا اصل مفہوم: اب یہاں جہاد فی سبیل اللہ کی محبت کا ذکر فرمایا حالانکہ بظاہر انسان یہ سوچ نہیں سکتا کہ جہاد سے بھی محبت ہو سکتی ہے۔یہاں صرف کموار کا جہاد مراد نہیں ہے محبت کے نتیجہ میں محبوب کو حاصل کرنے کے لئے ہر کوشش کا نام قرآن کریم نے جہاد رکھا ہے۔چنانچہ کی محبت کے بعد جہاد فی سبیل اللہ کا ذکر اس تعلق میں یہ مضمون ظاہر کر رہا ہے کہ محمد مصطفی ﷺ نے جس طرح زندگی گزاری اس زندگی کا ہر لحہ جہاد تھا۔ہر وقت تو آنحضرت ا تلوار ہاتھ میں نہیں لئے پھرا کرتے تھے۔ہر وقت تو تیر کمان ہاتھ میں نہیں ہوا کرتا تھا۔شاؤ کے طور پر جب غزوات میں آپ شامل ہوئے تو عملاً دشمن سے دو بدو لڑنے کا موقع بھی آپ کو میسر آیا مگر آپ کا جہاد اس وقت بھی تھا جب تیرہ سال کی کمی زندگی میں انتہائی مظلومیت کی حالت میں زندگی گزار رہے تھے۔پس جہاد صرف مارنے کا نام نہیں بلکہ اس سے بڑھ کر مار کھانے کا نام ہے اور خدا کے رستے میں دن رات اس کی محبت میں مگن ہو کر زندہ رہنے کا نام ہے اس کے متعلق فرمایا اگر تمہیں ان چیزوں سے محبت نہیں ہے تو پھر خدا تعالٰی سے تمہارا محبت کا دعویٰ کرنا نہ صرف غلط بلکہ خدا تعالٰی کے نزدیک زندگی فاسقانہ ہے۔محبت کی اعلی نشانی: اب یہاں پہنچ کر بھی سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکم تو بہت سخت لگایا گیا ہے مگر محبت حکما کیسے پیدا ہو سکتی ہے۔جیسا کہ میں نے پہلے بھی یہ سوال اٹھایا تھا محبت اور حکم کا آپس میں کوئی جوڑ نہیں۔آپ کو کوئی آدمی کتنا ہی پیارا ہو اس کو آپ کہیں کہ تم فلاں چیز سے محبت کرنے لگ جاؤ وہ سمجھے گا کہ اس کو کیا ہو گیا ہے اس کے دماغ میں کوئی نقص ہے؟ دنیا والے تو شاید یہاں تک کہتے ہیں! تمہیں چاہوں تمہارے چاہنے والوں کو بھی چاہوں میرا دل پھیر دو مجھے سے جھگڑا ہو نہیں سکتا عجیب شرطیں نگا رہے ہو تم۔کہ تم سے محبت کروں ساتھ ان سے بھی محبت کرنے لگ جاؤں جو تمہارے چاہنے والے ہیں میرا دل پھیر دو مجھے میرا دل واپس کر دو یہ جھگڑا