تحریک وقف نو — Page 7
5 4 شہادتیں ساری دنیا میں نکھری پڑی ہیں۔پھر تیرے حکم سے ہم کیسے محبت کرنے لگیں۔چونکہ اس حکم کے اندر خدا تعالٰی حکمت کاملہ رکھتا ہے اس حکم کے اندر کوئی غیر منطقی بات نہیں ہو سکتی اس لئے ہمیں اس بات کو تو بہر حال کلیتہ ” فراموش کر دینا پڑے گا کہ خدا تعالی حکم کے نتیجہ میں محبت چاہتا ہے اگر آپ کو کسی سے محبت ہے تو اس کے جواب مین وہ بھی محبت کا ایک اظہار کرتا ہے اور ایک ایسی چیز کی طرف یا ایک ایسی ہستی کی طرف جو ابا اشارہ کرتا ہے کہ اگر تمہیں مجھ سے محبت ہے تو یاد رکھو میں اپنی محبت کا ایک ظاہری عکس انسانوں میں بھی تمہیں بتاتا ہوں۔جس طرح تم کائنات کا مشاہدہ کرتے ہو اور اس میں ہر طرف حسن دیکھتے ہو اور اس پر عاشق ہوتے چلے جاتے ہو اس طرح میں تمہیں ایک ایسی محبوب ہستی بتاتا ہوں کہ جو میرے عشق کی وجہ سے سنوری ہے میری محبت کے نتیجہ میں اس میں حسن پیدا ہوا ہے۔تم اس کو دیکھو اور اس پر عاشق ہو جاؤ اور عاشقانہ اس کی اطاعت کرو۔یہ مضمون ہے جو اس آیت میں مخفی ہے اور دوسری آیات میں کھلا کھلا اظہار فرما دیا گیا ہے۔پس خدا کی طرف سے گویا جواب یہ ہے کہ تمہیں مجھ سے محبت تو ہے یا ارادہ ہے یا خواہش ہے کہ کچی اور حقیقی محبت کرو لیکن کوئی ایسا عاشق صادق تمہیں معلوم نہیں جس کے ساتھ میں نے محبت کی ہو اس لئے اگر تم اس کے پیچھے چلو جس کے ساتھ میں نے محبت کی ہے تو لازمی اور قطعی طور پر میں تم سے بھی محبت کرنے لگوں گا اور جس سے خدا محبت کرتا ہے وہ لازماً حسین ہو گا کیونکہ قابل نفرت وجود سے خدا محبت نہیں کرتا۔جس شخص کے متعلق خدا یہ کہتا ہے کہ میں نے اس سے محبت کی ہے یہ اس کے اندر مضمر ہے کہ وہ شخص لازماً حسین ہے اس کے بغیر کوئی بات بنتی ہی نہیں۔اس لئے لازماً اس کے اندر مخفی اور پوشیدہ پیغام کے طور پر آپ کو یہ دیکھنا پڑے گا اور نہ کوئی منطقی بات نہیں بنتی کہ اگر تم محبت کے دعویدار ہو اور محبت چاہتے ہو تو میں تمہیں ایک ایسے شخص کا پتہ بتاتا ہوں جو مجھ سے محبت میں انتہا کر گیا۔وہ خود بھی بہت زیادہ حسین تھا لیکن میری محبت کے نتیجہ میں اس کا حسن مزید چپکا کیونکہ میں نے اس سے بہت محبت کی۔پیس تم ان رستوں پر چل پڑو جن رستوں پر وہ چلتا ہے۔پھر تم میں بھی وہ حسن پیدا ہونا شروع ہو جائے گا اور میں تمہارے حسن سے بھی محبت کرنے لگوں گا۔محبت رسول ﷺ کے فقدان کا نام فسق ہے: یہ ہے وہ مکمل جواب جو اس آیت میں دیا گیا ہے۔اس کی تائید قرآن کریم کی مختلف آیات کرتی ہیں ان میں سے ایک آیت جس کی میں نے ابھی تلاوت کی تھی وہ اس مضمون کو بڑی تفصیل کے ساتھ بیان کرتی ہے۔فرمایا : قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجِكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَأَمْوَالَ اقْتَرَفْتُمُوهَا ويجارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَلَكِن تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُمْ مِنَ اللَّهِ وَرَسُولِهِ وَ جهاد في سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّى يَأْتِي اللَّهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّهُ لا يَهْدِى الْقَوْمَ الْفَقِينَ (التوبي : ۳۳) + کہ اے محمد ال ایہ بھی اعلان کر دے کہ اگر تمہارے آباؤ اجداد اور تمہاری اولادیں تمہاری آئندہ نسلیں اور تمہارے بھائی اور تمہاری بیویاں اور تمہارے قبائل اور قومیں اور وہ اموال جن کو تم کماتے ہو اور محنت کے ساتھ حاصل کرتے ہو اور وہ تجارتیں جن کے متعلق خوف دامن گیر رہتا ہے کہ کہیں نقصان نہ ہو جائے اور وہ رہتے کے گھر جن سے تم راضی ہو یعنی وہ محلات اور مکانات جو تمہاری تمناؤں کے مطابق بنائے گئے ہوں اب اینکه مِنَ اللهِ وَرَسُونِ ہے تمہیں اللہ اور اس کے رسول سے زیادہ پیارے ہیں اور خدا کے رستے میں جہاد سے زیادہ پیارے ہیں فشر بصو ا حتی با تی اللہ با مره پھر تم انتظار کرو یہاں تک کہ خدا اپنا فیصلہ صادر فرما دے یعنی ایسا فیصلہ صادر فرما دے جس سے تمہاری محبت کا جھوٹا ہونا ثابت ہو جائے اور خدا کا پیار پانے کی بجائے تم