تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 7
ہے۔د انقلاب ۲۲ فروری ۶۱۹۴۵ ) حیدر آباد دکن کے روزنامہ پایم (۲۲ فروری ۶۱۹۴۵ ) نے لکھا :- سر ظفر اللہ کی آواز میں ایک گرج ہے ایک دھما کا ہے جس کو ہم نظر انداز نہیں کر سکتے یا هند و اخبار پر جبهات (۲۰ فروری ۶۱۹۲۵ ) نے یہ نوٹ شائع کیا :- " ایک ایک ہندوستانی کو سر ظفر اللہ خان کا ممنون ہونا چاہیے کہ انہوں نے انگریزوں کے گھر جا کر حق کی بات کہہ دی یا اخبار پرتآپ (۲۲ فروری ۶۱۹۴۵ ) نے لکھا :۔ہندوستان کے فیڈرل کورٹ کے بج سر ظفر اللہ خاں آج کل لنڈن گئے ہوئے ہیں۔آپ کامن ویلتھ ریلیشنز کانفرنس میں ہندوستانی ڈیلی گیشن کے لیڈر ہیں۔لنڈن میں آپ نے جو تقریریں کی ہیں ان سے ہندوستان تو کیا ساری کامن ویلتھ میں تہلکہ مچ گیا ہے۔۔۔۔۔۔آپ نے برطانوی حکمرانوں کو وہ کھری کھری سنائیں کہ سُننے والے دنگ رہ گئے۔برطانوی حکومت کے جنوں تنخواہ دار ایجنٹوں کے کئے کرائے پر آپ کی تقریر نے پانی پھیر دیار" چوہدری صاحب کی ان حریت پرور اور انقلاب انگیز تقریروں کا فوری اثر برطانیہ کے عوامی اور صحافتی حلقوں سے بڑھ کر براہ راست برطانوی حکومت پر یہ ہوا کہ اس نے لارڈ ویول وائسرائے ہند کو كو نتقال اقدار کا نیا فارمولا تجویز کرنےاورمسلم و غیرمسلم زعاء و مصالحت کی پیشکش کرنے کے لئے لندن طلب کا کر لیا۔لارڈ ویول برطانوی وزیر اعظم میٹر چرچل اور کابینہ کے دوسرے ارکان سے مشورہ کے بعد ہ جون کو نئی تجاویز لے کر ہندوستان میں پہنچے گئے۔حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد نے ۲۲ جون ۱۹۴۵ء کے خطبہ جمعہ میں مسلمان اور ہندو لیڈروں کو نہایت درد دل کے ساتھ یہ پیغام دیا کہ انگلستان صلح کے لئے ہاتھ بڑھا رہا ہے۔دوسو سال سے ہندوستان