تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 6
۱۹۴۵ انتخابات کے دوران کلم لیگ کی پر جوش حمایت قائد اعظم کی قیادت کا اہم ترین واقعہ قرار داد پاکستان ہے جو ۲۳ مارچ ۱۹۴۰ء کو لاہور میں پاس ہوئی۔اس قرار داد کے بعد سر سٹیفورڈ کر پس ہندوستان آئے اور ہندوستان کی آزادی کا ایک جدید فارمولا پیش کیا جسے سلم لیگ اور کانگرس دونوں نے مسترد کر دیا نتیجہ یہ ہوا کہ ہندوستان کی آزادی قطعی محال اور بالکل ناممکن دکھائی دینے لگی بھین اس تاریک اور گھٹاٹوپ ماحول میں حضرت امام جماعت احمدیہ نے ۱۲ جنوری ۱۹۳۷ء کو ایک خطبہ جمعہ کے ذریعہ انگلستان اور ہندوستان دونوں کو مفاہمت و مصالحت کی دعوت دی۔( الفضل ۱۷ جنوری ۶۱۹۴۵ ) G اللہ تعالیٰ اپنے برگزیدہ بندوں کی زبان کو بسا اوقات اپنی زبان بنا لیتا ہے۔یہی صورتِ حال یہاں ہوئی۔آپ کے خطبہ کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے خود بخود یہ سامان پیدا کر دیا کہ چوہدری محمد ظفر اللہ خان کو جو ان دنوں فیڈرل کورٹ آف انڈیا کے حج تھے کامن ویلتھ ریلیشنز کا نفرنس میں ہندوستانی وفد کے قائد کی حیثیت سے انگلستان جانا پڑا جہاں آپ نے سرکاری نمائندہ ہونے کے باوجود انگلستان کے سامنے ہندستان کی آزادی کا مطالبہ ایسے زور دار اور پر شوکت و قوت الفاظ میں رکھا کہ دنیا بھر میں تہلکہ مچ گیا اور انگلستان کے سر بر آوردہ اخبارات کے علاوہ ہندوستان کے مسلم وغیرمسلم پوری نے بھی اس پر بکثرت تعریفی مضامین لکھے چنانچہ اخبار انقلاب نے " سر ظفر اللہ خان کی صاف گوئی“ کے عنوان سے لکھا :۔" چوہدری سرمحمد ظفر اللہ خان نے کامن ویلتھ کی کانفرنس منعقدہ لندن میں جو تقریر فرمائی وہ ہر انگریز اور اتحادی ملکوں کے ہر فرد کے لئے دلی توجہ کی مستحق ہے۔کیا اس ستم ظریفی کی کوئی مثال مل سکتی ہے کہ جس ہندوستان کے پچیس لاکھ بہا در مختلف جنگی میدانوں میں جمعیتہ اقوام برطانیہ کی آزادی کو ملحوظ رکھنے کی خاطر لڑ رہے ہیں وہ خود آزادی سے محروم