تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 5 of 19

تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 5

(3) EVENING STANDARD 7TH APRIL 1933۔(4) EGYPTIAN GAZETTE ALEXANDRIA WEST AFRICA 15TH APRIL 1933۔(5) STATESMAN CALCUTTA 8TH APRIL 1933۔(6) SUNDAY TIMES LONDON 9TH APRIL 1933۔اس تقریر پر نواب زادہ لیاقت علی خاں اور اُن کی بیگم قائد اعظم کی خدمت میں لنڈن پہنچے۔آپ انگلستان کو خیر باد کہ کر واپس ہندوستان تشریف لے گئے اور پھر آپ کی قیادت میں چند سال کی جدو جہد کے بعد پاکستان معرض وجود میں آگیا۔چنانچہ پاکستان کے بزرگ صحافی اور تحریک پاکستان کے ممتاز لیڈر جناب میاں محمد شفیع (م) بش ) تحریر فرماتے ہیں :- "SO DISGUSTED WAS MR۔JINNAH WITH WASHING OF THE DIRTY LINEN INDIAN POLITICS IN PUBLIC BY THE LEADERS OF INDIAN PUBLIC OPINION THAT HE DECIDED TO RETIRE FROM INDIAN POLITICS AND IN TOKEN THEREOF TOOK HIS ABODE IN LONDON---ALMOST PERMANENTLY۔IT WAS MR۔LIAQUAT ALI KHAN AND MAULANA ABDUR RAHIM DARD, AN IMAM OF LONDON MOSQUE, WHO PERSUADED MR۔M۔A۔JINNAH TO CHANGE HIS MIND AND RETURN HOME TO PLAY HIS ROLE IN THE NATIONAL POLITICS۔CONSEQUENTLY, MR۔JINNAH RETURNED TO INDIA IN 1934 AND WAS ELECTED TO THE CENTRAL ASSEMBLY, UNOPPOSED۔' It ترجمہ :۔مسٹر جناح ہندوستان کی گندی سیاست سے اِس قدر بد دل ہو گئے اور رائے عام کے ہندوستانی لیڈروں سے اتنے سیاست مہ خاطر ہوئے کہ انہوں نے ہندوستا سے ریٹائر ہونے کا فیصلہ کر لیا اور اس علامت کے طور پر انہوں نے لندن میں قریباً ہمیشہ کے لئے قیام کر لیا۔یہ مسٹر لیاقت علی خان اور مولانا عبد الرحیم در و امام لندن ہی تھے جنہوں نے مسٹر محمد علی جناح پر زور دیا کہ وہ اپنا ارادہ بدلیں اور وطن واپس آکر قومی سیاست میں اپنا کردارادا کریں۔اس کے نتیجہ میں مسٹر جناح ۱۹۳ ء میں ہندوستان واپس آئے اور مرکزی اسمبلی کے انتخاب میں بلا مقابلہ منتخب ہوئے۔پاکستان ٹائمز ا استمبر صفحہ ۲ کالم را سپلیمینٹ)