تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ

by Other Authors

Page 4 of 19

تحریک پاکستان اور جماعت احمدیہ — Page 4

ہونے لگا کہ میں ہندوستان کی کوئی مدد نہیں کر سکتانہ ہندو ذہنیت میں کوئی خوشگوار تبدیلی کر سکتا ہوں نہ مسلمانوں کی آنکھیں کھول سکتا ہوں۔آخر میں نے لندن ہی میں بودو باش کا فیصلہ کر لیا۔" قائد اعظم اور ان کا عہد صفحہ ۱۹۱-۱۹۲ مؤلفہ مولانا نیس احمد جعفری ) قائد اعظم کے اس فیصلہ سے کانگریسی ہندو اور کانگرس نو از مسلمانوں کی خوشیوں کا کوئی ٹھکانانہ تھا مگر حضرت مرزا بشیر الدین محمود احمد امام جماعت احمدیہ کا درد مند دل اس صورتحال کو دیکھ کر تڑپ اُٹھا کہ مسلمانان ہند اپنے ایک محبوب سیاسی لیڈر کی براہ راست قیادت سے محروم ہو گئے ہیں اور مسلم سیاست پر وہ لوگ مسلط ہو رہے ہیں جو مسٹر گاندھی کو نجات دہندہ سمجھتے ہیں۔اس مرحلہ پر حضور نے مبلغ انگلستان مولانا عبدالرحیم صاحب درد کو ہدایت فرمائی کہ وہ قائد اعظم کو واپس ہندوستان آنے اور مسلمانان ہند کی سیاسی قیادت سنبھالنے کی تحریک کریں چنانچہ مولانا در دنے مارچ ۱۹۳۳ء میں اُن کے دفتر واقع کنگز پہنچ والو لنڈن میں آپ سے ملاقات کی اور تین گھنٹوں کی بحث و تمحیص کے بعد آمادہ کر لیا کہ و مسلمانان ہند کی خدمت کے لئے پھر پبلک میں آئیں نیز بیت الفضل ۶۳ میلروز روڈ لنڈن میں ہندوستان کا مستقبل “ کے موضوع KING'S BENCH WALK LONDON پر لیکچر دینے کے لئے بھی رضامند ہو گئے۔قائد اعظم نے اپنی تقریر کا آغاز ان الفاظ سے کیا کہ :- "THE ELOQUENT PERSUASION OF THE IMAM LEFT ME NO ESCAPE"۔امام صاحب لی یچ و بیع رجیب سے میرے لئے کوئی راہ بچنے کی نہیں چھوڑی۔یہ تقریر برطانوی اور ہندوستانی پریس کی خاص توجہ کا مرکز بنی اور چوٹی کے اخبارات میں اسکی وسیع اشاعت ہوئی مثلاً :- (1) MADRAS MAIL 7TH APRIL 1933۔(2) HINDU MADRAS 7TH APRIL 1933۔۔